اچانک معائنہ مہم کا اعلان، فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت کارروائی ہوگی
سرینگر// یو این ایس / شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے قصبہ سوپورمیں انتظامیہ نے مقبول اسٹریٹ فوڈ ’آلو منجھ‘ کی تیاری میں مصنوعی رنگوں اور کیمیائی اجزاء کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکام کے مطابق شہریوں کی جانب سے متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں کہ بعض دکاندار اسنیکس کی رنگت اور ذائقہ بڑھانے کیلئے مصنوعی رنگ اور کیمیکل استعمال کر رہے ہیں، جو عوامی صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔یو این ایس کے مطابقتحصیلدار سوپور شیخ طارق نے تصدیق کی کہ مقامی بازاروں میں ’آلو منجھ‘ فروخت کرنے والے تمام ریڑھی بانوں اور دکانداروں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ فوری طور پر غیر صحت بخش طریقہ کار ترک کریں۔یو این ایس کے مطابق تحصیلدار نے کہا کہ عوام کو فراہم کی جانے والی اشیائے خورونوش صاف، حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق اور مضر اضافی اجزاء سے پاک ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ صرف معیاری اور صحت بخش خوراک ہی فروخت کی جائے، بصورت دیگر متعلقہ افراد کو فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت جرمانے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔انتظامیہ کے مطابق حالیہ عرصے میں خوراک میں ملاوٹ، خصوصاً صنعتی رنگوں کے استعمال سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جن میں سے بعض رنگ انسانی استعمال کیلئے منظور شدہ نہیں ہوتے۔ اسی تناظر میں یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔’آلو منجھ‘ جو بیسن سے تیار کی جانے والی تلی ہوئی مقامی ڈش ہے، سوپور اور شمالی کشمیر کے دیگر علاقوں میں خاصی مقبول ہے، بالخصوص طلبہ اور خریداروں میں۔انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ خوراک میں ملاوٹ کے کسی بھی واقعے کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں اچانک معائنہ مہم چلائی جائے گی تاکہ احکامات پر مکمل عملدرآمد اور فوڈ سیفٹی اصولوں کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔










