سرینگر/ /پاکستان کی ٹی20کرکٹ مقابلے میں جیت کا جشن منانے والے کشمیر ی طلباء کے خلاف کریک ڈئون شروع کیا گیا ہے جس دوران آگرہ میں3طلباء کو گرفتار کر لیا گیا ۔اس دوران جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیری طلباء کے خلاف کریک ڈون قابل مذمتہے انہوں نے تمام گرفتار طلباء کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے آگرہ کے ایک کالج میں پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کے الزام میں گرفتار تین کشمیری طلبا کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے اندر اور باہر کشمیری طلبا کے خلاف جاری کریک ڈاؤن قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی جعلی حب الوطنی سے ہندوستان کے تصور کی تحقیر ہوجاتی ہے۔موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں کیا۔ان کا اپنے ٹویٹ میں کہنا تھا: ’ کشمیری طلبا کے خلاف جموں و کشمیر کے اندر اور باہر جاری کریک ڈاؤن قابل مذمت ہے۔ دو برسوں کے جبر کے بعد جموں وکشمیر کی صورتحال حکومت ہند کے لئے چشم کشا ہونی چاہئے تھی اور انہیں اصلاحی اقدام کرنے چاہئے تھے۔خیال رہے کہ پاکستان کی ٹی ٹونٹی میں جیت درج کرنے کے بعد کچھ طلباء نے وادی کشمیر کے باقی حصوں کے ساتھ ساتھ سرینگر کے دو معروف طبی کالجوں میں زیر تعلیم طلباء نے جشن منایا تھا جس کا حکام نے سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے طلباء کے خلاف کارروائی کی ہے ۔اس دوران جموں کے سانبہ میں پہلے ہی6نوجوانوں کی گرفتاری عمل میںلائی گئی بہے جبکہ آگرہ میں 3طلباء کے خلاف باضابطہ طور کیس درج کئے گئے ہیں ۔تاہم عوامی حلقے اور سنجیدہ طبقہ ہائے فکر کا سرکار سے مطالبہ ہے کہ زیر تعلیم طلباء کو اب کی بار اس سرزش کے لئے چھوڑ دینا چاہئے انہوں نے بتایا طلباء کو کونسلنگ سے ان چیزوں سے دور رکھا جا سکتا ہے ہے جبکہ اس طرح کی کارروائیاں بچوں کے مستقبل کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں؛۔










