چنار کور کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے کا دورہ کپوارہ

کشمیریوںاورغیرکشمیریوںکایہاں آنا خو ش آئند :لیفٹنٹ جنرل پانڈے

مقامی انتظامیہ نے علاقے میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے کوشاں

گریز بانڈی پورہ //فوج کی15ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے بدھ کو کہا کہ امسال فروری میں ہندوستانی اور پاکستانی فوج کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے بعد ، شمالی ضلع بانڈی پورہ کی وادی گریز پرامن ہے اور لوگ بغیر کسی خوف کے زندگی گزاررہے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق گریز بانڈی پورہ میں مشترکہ سالانہ ٹریننگ کیمپ برائے تھرڈجے کے بٹالین کے موقع پرکہاکہ لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہا کہ اس سال فروری میں جنگ بندی کے نئے معاہدے کے بعد سے ، گریز کے لوگ پرامن ماحول میں رہ رہے ہیں۔اعلیٰ فوجی جنرل نے کہا کہ گریز کے لوگ ، مرد اور عورت دونوں ، بلا خوف زندگی گزار رہے ہیں۔ فوج کی15ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے کہا کہ اُنھیں کشمیر اور باہر کے لوگوں کی بڑی تعداد کو گریز میں کیمپنگ کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوئی۔انہوںنے کہاکہ مجھے یہاں1998 میں تعینات کیا گیا تھا اور گریززمین کی خوبصورت ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہاکہ گریز کے لوگ شائستہ اور مہمان نواز ہیں جو اپنے مہمانوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔انہوں نے مقامی لوگوں اوربیرون ریاستی افرادپرزوردیاکہ وہ گریز آکر یہاںکی خوبصورتی سے لطف اندوزہوں ۔گریزبانڈی پورہ میں سیاحت کے فروغ کی سرگرمیوں کے بارے میں ، فوج کی15ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے کہا کہ مقامی انتظامیہ نے علاقے میں سیاحت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہاں پائیدار امن برقرار رہے اور ایک محفوظ ماحول رہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آئیں اور اس جگہ کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں۔یہاں منعقدہ تقریب کے بارے میں بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہا کہ نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی) ایک پلیٹ فارم ہے جو کہ مژھل ،ٹنگدار اوراوڑی سے بچوں کو اکٹھا کرتا ہے جہاں وہ نظم و ضبط سیکھتے ہیں۔۔انہوںنے کہاکہ بڑا مقصد انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ وہ ایک بڑے معاشرے کا حصہ ہیں اور وہ اپنا کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہا کہ انہیں یعنی بچوں کو اپنے اردگرد تک محدود رکھنے کے بجائے یہ ضروری ہے کہ وہ ادھراُدھر جائیں اوردیکھیں سمجھیں ۔انہوںنے کہاکہ اپنے گردونواح تک محدودرہ کر بچے الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں ۔