7سال پہلے لگے زخموںکے نشانات اورتباہی کے نقوش آج بھی موجودـ:کے ٹی اے،کے ای اے
سری نگر//کشمیرمیں ستمبر2014کے سیلاب کی تباہ کاریوںکویادکرتے ہوئے مختلف کاروباری انجمنوںنے کہاکہ7سال پہلے لگے زخموںکے نشانات اورتباہی کے نقوش آج بھی موجودہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق وادی میں 2014میں آئے تباہ کن سیلاب کی ساتویں برسی پر کشمیر ٹریڈ الائنس نے کہا کہ کشمیر میں تجارتی سرگرمیوں میں تنزلی اور معیشت میں بگاڑ کا جو سلسلہ شروع اس وقت شروع ہوا،اس کے نہ تھمنے کا سلسلہ 2021میں بھی جاری ہے۔اپنے ایک بیان میں کشمیرٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز شہدار نے کہا کہ2014کے تباہ کن سیلاب کے دوران وادی کی معیشت کو قریب ایک لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا،اور کاروباری و تجارتی حلقوں کو اس سیلاب نے بڑا ایک دھچکہ دیا،جس کے 7 سال گزر جانے کے بعد بھی اب تک کاروبار سنبھل نہ سکا۔شہدار نے کہا کہ2014کے بعد تجارت اور معیشت کو بار بار اور مسلسل کئی اور جھٹکے بھی ہوئے لگے،جس کی وجہ سے کشمیری کے تاجر،کاروباری،صنعت کار،ٹرانسپوٹر ،سیاحتی سرگرمیوں سے جڑے لوگ اور تعمیراتی معمارں کے علاوہ یہاں کی سیاحت پر گرہن لگ گیا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کی ریاستی اور مرکزی حکومت سے تجارت کو بحال کرنے کیلئے جو امیدیں وابستہ تھی وہ بھی سراب ثابت ہوئے،اور سات سال گزر جانے کے باوجود بھی تاجروں اور کاروبای حلقوں کی بحالی کیلئے نا ہی کوئی جامع پیکیج کا اعلان کیا گیا اور نا ہی کوئی دوسری راحت دی گئی۔کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدر نے کہا کہ جس رحت اور با ز آبادکاری کے دعوئے کئے گئے وہ کاغذات تک ہی محدود رہیں،اور اگر کچھ دیا گیا تو وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر تھا۔ شہدار نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ مابعد برسوں کے حالات اور پھر5اگست2019کے مابعد صورتحال اور اب کویڈ19کے نتیجے میں گزشتہ ڈیڑ برس میں قریب9ما کے لاک ڈائون نے کشمیری تاجروں،دکانداروں اور کاروباریوں کی کمر ہی توڑ دی۔ان کا کہنا تھا کہ5اگست2019کے بعد کشمیری کاروبار کو قریب50ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا، وہی سیلاب اور مابعد سیلاب اب تک2 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا،جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے،تاہم سنجیدگی کے ساتھ تاجروں کو اس بھنور سے باہر نکالنے کیلئے کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ لیفٹنٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ اور مرکزی حکومت ٹھوس اور سنجیدہ کوشش کرکے کشمیری تاجروں کیلئے سامنے آئے گی۔اُدھر تاجروں،ٹرانسپوٹروں،تعمیراتی ٹھیکیداروں اور سیاحتی صنعت سے جڑے ہوئے لوگوں نے وادی میںتباہ کن سیلاب کے7ویں برسی پر سرکار سے سیلاب زدگان کاروباریوں کی مد د کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وادی کی معیشت کے تابوت میں اب صرف آخری کیل ٹھوکناباقی ہے۔ تاجروں،ٹرانسپوٹروں،تعمیراتی معماروں اور سیاحت سے جڑے ہوئے لوگوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کشمیر اکنامک الائنس نے کہا کہ گزشتہ7برسوں سے وادی کے تجارتی شعبے اور کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نا قابل بیان مسائل کا سامنا کرنا پڑا،جس کی وجہ سے یہاں کی اقتصادی و معیشی صورتحال تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔اپنے ایک بیان میںکشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے کہا کہ ایک لاکھ کروڑ کے نقصانات کے بعد اگرچہ مرکزی حکومت نے44ہزار کروڑ روپے کے امداد کا اعلان کیا تاہم اس میں بھی صرف7ہزار کروڑ روپے تجارتی نقصان کیلئے رکھا گیا،جو اونٹ کے منہ میں زیر ہ کے برابر تھا۔فاروق ڈار نے کہا کہ مابعد بھی تاجروں کو مکمل راحت نہیں دی گئی اور اب بھی کئی ایک تاجر سیلابی امداد کی چیکوں کیلئے متعلقہ انتظامی دفتروں کا طواف کر رہے ہیں۔ ڈار نے کہا کہ تباہ کن سیلاب کے بعد2019,2020اور2021کے حالات نے رہی سہی کثر بھی پوری کی اور تجارتی شعبے کا کمر ہی توڑ کر رکھ دیا،تاہم اس کے باوجود بھی ابھی تک تجارتی شعبے کی بحالی کیلئے کسی بھی جامع پیکیج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ اب جبکہ سیلاب کے7برس مکمل ہوچکے ہیں، وادی میں تجارتی شعبہ خستہ ہوچکا ہے،اور تاجروں و کاروباریوں کے مسائل و مشکلات کا مدوا کرنے والا بھی کوئی نہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر وادی کے ان تاجروں کو اس سیاہ اندھیرے سے بہار نکالنے کیلئے اقدمات اٹھائے جانے چاہے۔










