سری نگر//وسطی ضلع کشمیر کے ضلع گاندربل کے تولہ مولہ علاقے میں واقع مشہور ماتا کھیر بھوانی مندر میں جمعے کو سالانہ ‘میلہ کھیر بھوانی’ جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا تاہم کورونا پابندیوں کی وجہ سے کم تعداد میں ہی عقیدت مند اس میں شرکت کر سکے۔
سال گزشتہ مذکورہ میلے کی تقریبات اور عقیدت مندوں کی گہماگہمی کلی طور پر کورونا لاک ڈاؤن کی نذر ہوئی تھی صرف مندر کے منتظمین اور کچھ سرکاری عہدیداروں نے ہی روایتی پوجا پاٹ میں حصہ لیا تھا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ میلہ کھیر بھوانی کے موقع پر نہ صرف وادی میں ہی مقیم پنڈت برادری کے عقیدت مندوں کا ماتا کھیر بھوانی مندر میں تانتا بندھا رہتا ہے بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں قیام پذیر مہاجر کشمیری پنڈت بھی تمام تر مصروفیات کو ترک کر کے اولین فرصت میں ماتا کے ہاں حاضر ہو جاتے تھے۔
میلے میں حصہ لینے والی سرسوتی نامی ایک عقیدت مند نے بتایا کہ کورونا کی وجہ سے کم تعداد میں ہی عقیدت مند یہاں آ سکے ہیں لیکن جتنے آ سکے انہوں نے یہاں روایتی پوجا پاٹ میں حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے یہاں کورونا کے خاتمے کے لئے دعائیں کیں تاکہ لوگ معمول کا کام کاج اچھی طرح سے شروع کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ضلع انتظامیہ نے میلے کے انعقاد کے لئے بھرپور انتظامات کئے ہوئے ہیں اور یہاں کورونا گائیڈ لائنز پر من وعن عمل کیا جا رہا ہے۔
جموں سے آئے ایک عقیدت مند نے کہا کہ اس میلے میں شرکت کرنے کے لئے پنڈت برادری کے لوگ جو ملک کے مختلف حصوں میں قیام پذیر ہیں تشریف لاتے ہیں بلکہ مسلم برداری اور سکھ برادری کے لوگ بھی اس میلے میں شرکت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہاں ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند آیا کرتے تھے لیکن گزشتہ دو برسوں سے کورونا کی وجہ سے یہاں عقیدت مندوں کے آںے کی تعداد بہت کم ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہاں آج کورونا کے خاتمے اور دنیا میں قیام امن کے لئے دعائیں کیں۔
وادی کے دیوسر علاقے میں بھی ایک مندر میں سالانہ ‘ماتا کھیر بھوانی’ کا میلہ منایا گیا۔
اس مندر کی انتظامیہ کمیٹی کے ایک عہدیدار نے نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ امسال کورونا کی وجہ سے بہت کم عقیدت مند یہاں آ سکے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ میلہ ہر سال ماہ مئی یا جون میں منایا جاتا ہے اور اس میں پنڈت برادری کے ہی نہیں بلکہ مسلم برادری کے عقیدت مند بھی شرکت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں قیام پذیر پنڈت برادری کے لوگ اس دن یہاں آتے ہیں اور روایتی پوجا پاٹ میں حصہ لیتے ہیں۔
موصوف نے کہا کہ انتظامیہ نے میلے کے انعقاد کے لئے تسلی بخش انتظامات کئے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق جموں میں بھی میلہ کھیر بھوانی منایا گیا اور اس سلسلے میں روایتی پوجا پاٹ کی گئی اور کورونا کے خاتمے اور دنیا میں قیام امن کے لئے دعائیں کی گئیں۔
قابل ذکر ہے کہ تولہ مولہ میں واقع کھیر بھوانی کشمیری پنڈتوں کی ایک مقدس جگہ ہے جہاں پر رگنیا دیوی جو ان کی ایک مقدس دیوی ہیں، کی مندر ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کے مطابق رگنیا دیوی صرف کشمیر میں پوجی جاتی ہیں۔
اس مندر میں کشمیری پنڈت ‘میلہ کھیر بھوانی’ کے نام سے مشہور تہوار ہر سال مناتے ہیں۔ میلہ کھیر بھوانی کو کشمیری پنڈتوں کا سب سے بڑا اور اہم تہوار مانا جاتا ہے۔
اس تہوار کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ اب گزشتہ تین دہائیوں سے اُن کشمیری پنڈتوں کو اپنے مقامی کشمیری مسلمان اور پنڈت بھائیوں سے ملنے کا موقع بھی فراہم کر رہا ہے، جو انیس سو نوے کی دہائی میں نامساعد حالات کی وجہ سے وادی میں اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کر گئے تھے۔
مورخین کے مطابق کھیر بھوانی کی مندر کو 1912 میں مہاراجہ پرتاب سنگھ نے تعمیر کیا تھا۔ کھیر بھوانی کے اس مقدس مندر کے مقام پر ایک چشمہ ہے، جو پنڈتوں کے مطابق ہر سال اپنا رنگ بدلتا رہتا ہے اور کشمیر کے لئے اگلے سال کیسا ہوگا، کی رنگ کے ذریعے پیشن گوئی کرتا ہے۔
مندر کے ایک پادری کا کہنا ہے کہ وادی میں مسلح تحریک شروع ہونے اور کشمیری پنڈتوں کی ہجرت کے باوجود اس مندر کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ تولہ مولہ کے مسلمان ہمیشہ اس مندر میں پوجا کرانے میں معاون ثابت ہوئے اور وہ یہاں منعقد ہونے والے سالانہ میلہ کے دوران عقیدتمندوں کو پھول، دودھ اور دیگر چیزیں مہیا کیا کرتے ہیں۔










