19افراد پتھروں کے نیچے دبے جانے کا خدشہ، بچائو آپریشن قریبا ختم
سرینگر//کشتواڑ واقعے میں مجموعی طور پر 26افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جن میں سے 19ہنوز لاپتہ ہے جن کو ڈھونڈنے کیلئے جاری آپریشن 8روز بعد آج بند کردیا گیا ہے کیوںکہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ افراد بھاری پتھروں کے نیچے دب چکے ہیں ۔ اس دوران مقامی لوگوں نے انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ انتظامیہ کی غفلت شعاری کے نتیجے میں اس قدر لوگوں کی جانیں گئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مطالبہ تھا کہ انہیں اس علاقے سے دوسری جگہ منتقل کیا جائے لیکن ان کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کشتواڑ میں 19لاپتہ افراد کو ڈھونڈنے کیلئے جو آپریشن شروع کیاگیا تھا اس کو قریب ایک ہفتے بعد بند کردیا گیا ہے کیوںکہ یہ آپریشن ناکام ہوا ہے ۔ اس بیچ اس واقع میں مجموعی طورپر 26افراد کی جان تلف ہوئی تھیں۔ 27جولائی کی شام کشتواڑ ہیڈکوارٹر سے70 کلومیٹر دور علاقہ دچھن کے ہونزڈ گائوں میں بادل پھٹنے کے واقعے میں قریب 26 افراد کی جانیں چلی گئی ہیں۔ جن میں7 افراد کی لاشیں بر آمد کی جاچکی ہیں جبکہ 19ہنوز لاپتہ ہیں جو بھاری پتھروں کے نیچے دفن ہوگئے ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقہ دچھن میں پہلی بار اس طرح کا واقعہ رونما ہوا ہے۔ اسی علاقہ میں سال 2004 میں آگ کی ہولناک واردات میں پورا گائوں جل گیا تھا۔جسکے بعد مقامی لوگوں نے گائوں کے لوگوں کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی مانگ کی تھی لیکن انکی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔لوگوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے انکی بات کو سنا ہوتا اور انہیں کسی دوسری جگہ منتقل کیا ہوتا تو پچھلے دنوں کا المناک حادثہ پیش نہ آیا ہوتا۔مقامی لوگوں کے مطابق اسی طرح کا سیلاب چالیس برس پہلے بھی آیا تھا لیکن اُس وقت اگرچہ فصل کو نقصان پہنچا تھا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقے میں رہنے والے لوگوں نے انہیں دوسری جگہ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ان کی بات کو سنی ان سنی کردیا گیا جس کی وجہ سے آج اس قدر بھیانک حادثہ پیش آیا ۔ لوگوں نے کہاکہ یہاں جگہ کی تنگی کے سبب لوگوں نے نالہ کے کنارے تعمیرات کھڑا کئے ہیں جس کی وجہ سے سیلاب نے ان ہی مکانات کو اپنے ساتھ بہالیا ۔ انہوںنے کہا کہ اگر اس طرف ابھی بھی توجہ نہیں دی گئی تو مستقبل میں یہ زیادہ لوگوں کی جانوں کی زیاں کو موجب بن سکتا ہے ۔










