آپریشن تراشی اول ،فوج کی استقامت،ویژن اور غیر معمولی تال میل کی روشن مثال، جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال//جی ائو سی ڈیلٹا فورس
سرینگر//یو این ایس کشتواڑ میںتصادم آرائی کے دوران جیش کمانڈرکی 2ساتھیوں سمیت ہلاکت کے بعدفوج نے پیر کے روز کہا کہ حال ہی میں مکمل ہونے والا آپریشن تراشی،اوّل استقامت، واضح سوچ، منظم منصوبہ بندی، دوراندیشی اور بھارتی افواج و دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کی انتھک محنت کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔یو این ایس کے مطابق کشتواڑ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاؤنٹر انسرجنسی فورس ڈیلٹا کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میجر جنرل اے پی ایس بال نے کہا کہ یہ آپریشن ملی ٹنٹ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اختیار کی گئی مربوط اور ہمہ جہت حکمتِ عملی کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ کامیابی کئی ماہ کی مسلسل کوششوں، مربوط منصوبہ بندی اور ہر سطح پر غیر معمولی تال میل کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا، ‘‘یہ حالیہ آپریشن تراشی ہماری استقامت، سوچ کی وضاحت، مناسب منصوبہ بندی اور اس وڑن کی عکاسی کرتا ہے جو ہمارے پاس تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ ان مہینوں پر محیط انتھک کوششوں اور یہاں کام کرنے والی ہر فورس اور ایجنسی کے مربوط اندازِ عمل کی بدولت ممکن ہوا۔ یہ ہر سطح پر شاندار ہم آہنگی کی مثال ہے—چاہے وہ زمین پر کام کرنے والے جوان ہوں، یہاں موجود شریک کمانڈرز، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرلز انسپکٹر جنرلز ڈائریکٹر جنرل آف پولیس یا آرمی کمانڈر—ہر ایک نے اس آپریشن کی فیصلہ کن کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا۔میجر جنرل بال نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کو ایک منظم سپورٹ سسٹم میسر تھا اور ایسے آپریشن اس معاونتی نظام کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق جن ٹھکانوں کی تعمیر کی گئی اور جو سامان بازاروں سے ان خفیہ پناہ گاہوں تک پہنچایا گیا، وہ کسی مضبوط پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس اس پورے نیٹ ورک سے بخوبی آگاہ ہے اور تمام متعلقہ افراد کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی، اگرچہ انہوں نے کسی کا نام ظاہر نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن نہایت پْرسکون، متوازن، اجتماعی اور باہمی اشتراک کے جذبے کے تحت انجام دیا گیا، جس کے نتیجے میں فورسز کو کوئی جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا اور نہ ہی کسی جوان کو گزند پہنچی۔ تاہم انہوں نے بہادر فوجی کتے ‘‘ٹائیسن’’ کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسی نے آپریشن کا آغاز کیا اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔میجر جنرل بال نے واضح کیا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ فروری کے مہینے میں فورسز نے کالعدم تنظیم جیش محمدکے چھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جن میں ایک ضلع ادھمپورکے علاقے میں جبکہ دوسرا ضلع کشتواڑمیں مارا گیا۔انہوں نے کہا، ‘‘ہم اپنے علاقے میں داخل ہونے والے ہر دہشت گرد کو غیر مؤثر بناتے رہیں گے۔’’ ان کا کہنا تھا کہ فورسز دونوں اطراف کے علاقوں میں سرگرم عمل ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔پریس کانفرنس کے اختتام پر میجر جنرل بال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارتی افواج اور دیگر سکیورٹی ادارے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔یو این ایس کے مطابق فوج نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ضلع کشتواڑکے چھاترو علاقے میں جاری 326 روزہ طویل اور بلند پہاڑی مشترکہ آپریشن کے دوران سات خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں اس کارروائی کو دلیرانہ ثابت قدمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور سخت موسمی حالات میں مسلسل اور صبر آزما آپریشنز انجام دیے گئے۔بیان کے مطابق وائٹ نائٹ کور کے جوانوں نے جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ قریبی تال میل میں کارروائی انجام دی۔ یہ آپریشن سول اور فوجی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے قائم مضبوط انٹیلی جنس گرڈ کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا۔فوج نے بتایا کہ فورسز نے شدید سردی، برفانی اور گیلی صورتحال کے باوجود دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں دہشت گردوں کا مسلسل تعاقب کیا۔ مختلف مقامات پر کئی بار آمنا سامنا ہوا اور بالآخر تمام سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے دوران جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا گیا، جس میں ایف پی وی ڈرونز، سیٹلائٹ امیجری، آر پی ایز/یو اے ویز اور جدید مواصلاتی نظام شامل تھے، جنہوں نے کارروائی میں اہم معاونت فراہم کی۔فوج کے مطابق سیف اللہ اور اس کے ساتھیوں کی ہلاکت سے خطے میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورک کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ کامیابی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے عزم، جرات اور بہادری کی عکاس ہے۔وائٹ نائٹ کور نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا، ‘‘ہم خدمت کرتے ہیں، ہم حفاظت کرتے ہیں۔ اس دوران سرینگر// انسپکٹر جنرل آف پولیس (جموں زون) بھیم سین توٹی نے پیر کے روز کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک مشترکہ کارروائی میں کالعدم تنظیم جیش محمد کے سات رکنی دہشت گرد ماڈیول کو، جسے ’اسرائیل گروپ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ اس طرح جموں و کشمیر کے کشتواڑ خطے میں ڈیڑھ سال پر محیط آپریشن اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔یو این ایس کے مطابق کشتواڑ میں پریس بریفنگ کے دوران آئی جی پی نے بتایا کہ اس ماڈیول کے تین ارکان، جن میں خودساختہ کمانڈر سیف اللہ بھی شامل تھا، اتوار کے روز ضلع کشتواڑمیں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سات رکنی گروپ اپریل 2024 میں دراندازی کرکے بھارتی حدود میں داخل ہوا تھا اور اس عرصے کے دوران 17 مختلف مواقع پر اس کا سامنا کیا گیا۔ٹوٹی کے مطابق، ‘‘گزشتہ ڈیڑھ برس میں ہم نے اس گروپ کے تمام ارکان کو کامیابی کے ساتھ ہلاک کیا۔ اتوار کا دن اس طویل آپریشن کے اختتام کی علامت تھا۔’’ انہوں نے اس ماڈیول کو ایک سخت گیر دہشت گرد گروپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے سکیورٹی فورسز کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا۔انہوں نے بتایا کہ مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر چھاترو علاقے میں آخری تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ آئی جی پی نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مہم جاری رہے گی اور پورے دہشت گرد نیٹ ورک کے خاتمے تک یہ جدوجہد نہیں رکے گی۔آئی جی پی نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ اور مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی اور دہشت گردی کے پورے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ کشتواڑ ضلع میں اس وقت صرف تین مقامی دہشت گرد سرگرم ہیں اور گزشتہ برسوں میں شامل ہونے والے تمام نئے بھرتی شدہ افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔انہوں نے عوامی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیشتر انٹیلی جنس اطلاعات شہریوں کے ذریعے موصول ہوتی ہیں۔ ‘ انہوں نے زور دے کر کہا’’عوام ہمارے ساتھ ہیں، عوام بھارت کے ساتھ ہیں اور یہ دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔‘‘










