جموں//جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے ہونزر دچھن علاقے میں گزشتہ روز فلیش فلڈس کا واقعہ پیش آنے کے بعد لاپتہ ہونے والے 19 افراد کی تلاش کے لئے بچاؤ آپریشن جمعرات کو مسلسل دوسرے دن بھی جاری رہا۔ضلع کشتواڑ کے ہونزر دچھن علاقے میں بدھ کو بادل پھٹنے کے واقعے کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں کے نیتجے میں سات افراد جاں بحق، ڈیڑھ درجن زخمی جبکہ 19 دیگر لاپتہ ہوئے تھے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ضلع کٹھوعہ کے ہیرا نگر میں ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ کشتواڑ میں بادل پھٹنے کا واقعہ ایک دلخراش واقعہ تھا۔انہوں نے کہا: ‘یہ ایک قدرتی آفت تھی۔ بدھ کو سات لاشیں ملی تھیں، 17 لوگوں کو زخمی حالت میں ریسکیو کیا گیا تھا جن میں سے پانچ کی حالت نازک تھی۔ کچھ لوگوں کا پتہ نہیں چلا ہے۔ بدھ کو پانی کا بہائو زیادہ تھا اور بارش بھی ہو رہی تھی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ انتظامہ کی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ پوری ہمدردی ہے۔انہوں نے کہا: ‘ہم نے فوری امداد کا اعلان کر دیا ہے۔ مگر میں بار بار کہتا ہوں کہ کسی خاندان کا کوئی فرد انتقال کر جائے تو کوئی چیز اس کی برپائی نہیں کر سکتی۔ ہم متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔اس دوران لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ٹویٹر پر کہا کہ جائے واردات پر جمعرات کو بچاؤ اور ریلیف آپریشن کے لئے این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی دو مشترکہ ٹیمیں بھیجی گئی ہیں۔جموں میں تعینات دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دیویندر آنند نے کہا کہ ایس ڈی آر ایف کی ایک ٹیم کو ایئر فورس سٹیشن جموں سے بذریعہ ہیلی کاپٹر کشتواڑ بھیجا گیا ہے۔ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ سیلابی ریلے سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے جموں زون پولیس کے اے ڈی جی پی مکیش سنگھ اور صوبائی کمشنر جموں ڈاکٹر راگھو لنگر نے جمعرات کو ہونزر دچھن کا دورہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے ہمراہ دیگر اعلیٰ افسران بھی تھے۔موصوف نے کہا کہ ایس ایس پی کشتواڑ شفقت حسین بٹ گزشتہ روز سے ہی دچھن میں خیمہ زن ہیں جہاں وہ پولیس، ضلع انتظامیہ، فوج اور ایس ڈی آر ایف کی طرف سے چلائے جا رہے ریسکیو آپریشن کی سربراہی کر رہے ہیں۔ادھر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘کشتواڑ ریسکیو آپریشن: این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ایک مشترکہ ٹیم جموں سے صبح کے پونے چھ بجے بذریعہ روڈ کشتواڑ روانہ ہوئی ہے ۔ 4 ایس ڈی آر ایف اور 10 این ڈی آر ایف کی دوسری ٹیم ضروری ساز وسامان کے ساتھ جموں ہوائی اڈے سے کشتواڑ کی طرف روانہ ہوئی۔ان کا ایک اور ٹویٹ میں کہنا تھا کہ سری نگر سے بھی ضروری ساز و سامان کے ساتھ بچاؤ ٹیموں کو جائے واردات کی طرف روانہ کیا جا رہا ہے۔










