bashir ahmad

کس سے کیا گلہ۔۔۔؟

شیخ بشیر احمد

وہ رات مشتاق علی کے لئے جتنی تکلیف دہ تھی ۔اتنی وہ اس کے لیے خاص تھی اور وہ اُداس سابستر پر لیٹا ہوااپنی قسمت کو رو رہا تھا۔اس کے سامنے ایک پیچیدہ مسئلہ سر اُٹھائے کھڑا تھااور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھاکہ اس مسئلے کو سلجھانے میں کونسی مصلحت سے کام لے تاکہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
رات کا وہ آخری پہر تھا۔چاروں طرف گھنگھور اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔باہر سے سایئں سایئں کرتی ہوئی تیز وتند ہوا کے جھونکوں کی صدائیں سنائی دے رہی تھی ،کبھی دُور کسی ویرانے میں بادل پھٹنے اور کبھی ٹپ ٹپ برستی بارش کی آواز یں عجیب سی سنسناہٹ پیدا کررہی تھی ۔مگر یہ سب دل ہلادینے والی آوازیں اس کے لیے کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے اِس کے دماغ میں طرح طرح کے خیالات تیزی سے گردش کر رہے تھے۔
پروہ کرے تو کرے کیا گھر کی عزت دائو پر لگی تھی۔اسے کیا معلوم تھا کہ حالات و واقعات اُسے اس ڈگر پر لا کھڑا کردیں گے جہاں اس کے سامنے ایک اندھا کنواں تھااور پیچھے ایک گہری کھائی۔بے چارہ اس رات ٹھیک سے سو نہ سکھا۔دل و دماغ میں کشمکش چل رہی تھی ۔کبھی بار بارکروٹیں بدلتا رہا۔کبھی کنکڑیٹ سے بنی عمارت کی چھت کو تکتے جا رہا تھا۔رہ رہ کر اس کے کان میں اس کی بیوی کی باتیں گونج رہی تھیں۔وہ اسے کسی پل سکون لینے نہیں دیتی تھی ۔
وہ سوچ رہا تھا کل تک جو بہو ساس کی تعریف کرتے کرتے تھک جاتی تھی اور اس کی ناک پر مکھی کو بیٹھتے ہوئے دیکھنا برداشت نہیںکر پا رہی تھی وہی آج وہ اس کی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی اسے راستے کا پتھر سمجھنے لگی اور اپنے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ سلگائے بیٹھی تھی۔ شروع شروع میں مشتاق علی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ڈرایا اور دھمکایا بھی۔شاید وہ اس طرح سدھر جائے گی۔مگر ایسانہ ہوا۔ہر بار وہ ناکام رہا۔کہتے ہیں نا کتے کی دم سیدھی نہیں ہوتی ۔مجال کی وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجاتی۔ ابھی اس واقعہ کو زیادہ عرصہ نہ ہوا تھا۔جب ایک دن اچانک ڈاکٹروں نے اپنی تشخیص سے مشتاق علی کو ماں کے دل میں چھید ہونے کا انکشاف کیا۔تو اس نے ایکس رے سے لے کر آپریشن تک کے تمام مصارف پر روپیہ پانی کی طرح بہادیا۔جو اس کی بیوی کو ناگوار گزرا ۔وہ اکثر کہا کرتی کہ یہ سب کسی سرکاری اسپتال میں رعاعیتی داموں پر کرسکے۔نہ کہ پرائیوٹ نرسنگ ہوم میں کرنا صروری تھا۔جس پر اس نے گھر میں ایک ہنگامہ بپا کردیاتھا۔
چنگاری کا ہوا میں اٹھنا ہی تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے گھر میں آگ لگ گئی آگ اتنی تھی کہ جس نے گھر کے امن و امان اور خوشگوار ماحول کو تہس نہس کردیا آپس میں اتنی دوریاں بڑھ گئی جس نے آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں کڑواہٹ کاروپ لے لیااورمشتاق علی چکی کے دو پارٹوں کے درمیان میں پٹتارہا۔
ایک دن شام کو جب مشتاق دفتر سے گھر لوٹ آیا اور معمول کی طرح کپڑے تبدیل کرنے کے لئے اپنے کمرے میں گیا تو اس کی بیوی کسی کام سے اس کے کمرے میں آئی کچھ دیر تک ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں باتوں باتوں میں اس نے بڑے پیار سے اس کے گلے میں باہیں ڈال کر کے اسے ماں کے بارے میں جو کچھ کہا اس نے اس کے دماغ کافیوز اُڑادیا اور وہ اسے ہونقوںکی طرح دیکھتا رہ گیا۔ وقت سرکتا گیامگر مشتاق علی کی بیوی کے دل میں ابھی چنگاری بجھی نہ تھی اُسے لگا کہ وہ اپنے مقصد میں ناکامیاب ہوئی تو اس نے اپنا پینترہ بدل کر ساس کے خلاف اوٹ پٹانگ بکنا شروع کیا ۔جب بھی مشتاق علی دفتر سے تھکن سے چور نڈھال ہو کر گھر واپس آتا تھا تو وہ اس کے آتے ہی اپنا دکھڑا سنانا شروع کرتی۔ کبھی شکایتوں کا پٹارہ کھول کر بین بین روتی اور کبھی بے وقت راگنی کی طرح ساس کے خلاف کچھ نہ کچھ بولتی رہتی تھیں شاید نادانی اور ناسمجھی نے اس کی آنکھوں میں پٹی باندھی تھی۔
مشتاق علی فطرتاً شریف طبع اور سنجیدہ آدمی تھا کسی کے منہ لگنا پسند نہیں کرتا تھا اور نہ ہی اس کے منہ سے ایک لفظ اگلتاتھا اس نے سوچا کہ اس کی بیوی اپنی ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں لہذا اسے سمجھابے کار ہے خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا تھا سمجھاتے سمجھاتے تھک بھی گیا تھا آخر وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ عورت جتنی ناداں اور ناسمجھ ہےاتنی ہی ضدی اور ڈیڈھیٹ بھی۔جسےبرےبھلےمیں فرق کرنے کی نہ کوئی تمیز ہے نہ ہی بڑوں کے ساتھ پیش آنے کا شعورو سلیقہ بہتر یہی ہے کہ اسے اپنے حال پر چھوڑ دیاجائے دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔
وقت کا پرندہ پرواز کرتا گیا۔
اس دوران مشتاق علی کی بیوی نے اپنی روش نہ بدلی اور نہ ہی اس کے تیور میں کوئی تبدیلی آئی جب وہ سارے تیرآزماکر تھک چکی تھی اور اپنی ترکش میں سوائےایک تیر کے کچھ نہ بچادیکھا تو کچھ دنوں بعد ہی وہ اچانک بنا کچھ کہے سنے دونوں بچوں کو اپنے ساتھ لے کر میکے چلی گئی اور دوبارہ پلٹ کر نہ دیکھااس طرح اُس نے خود کو اُن کے لئے پرایا کردیا۔
اپنی اُجڑتی دُنیا دیکھ کر آخر مشتاق علی نےذہنی کشمکش سے نجات پانے کے لیے اس رات کے آخری لمحوں میں ایک انوکھا فیصلہ کر لیا نہ جانے وہ فیصلہ اس نے محبت میں مجبور ہو کر لیا یا تنہائی کے ڈر نے اُسے مجبور کردیا۔
وہ رات اس نے جا گ کر انگاروں پر کاٹی اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔صبح اُٹھ کر نہ جانے اس نے ماں کو کیا پٹی پڑھائی کہ وہ اسے اپنے ساتھ کار میںبٹھا کر گھر سے نکل گیا۔ ابھی وہ زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ اُس نے ڈاکیہ کو ہاتھ اوپر ہلاکر روکنے کا اشارہ کرتے ہوئے پایا۔
اس نے فوراً کار روک لی اور پوسٹ مین نے اس کے ہاتھ میں ایک بندرجسٹری تھماکر چلا گیا ۔مشتاق علی نے جھٹ سے لفافہ پھاڑ دیا تو اس میں بیوی کی جانب سے عدالتی نوٹس برآمد ہوئی۔
پڑھتے پڑھتے اس کا سر چکرانے لگا جسم سر دپڑگیا ماتھے پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے اور چہرہ پیلا پڑگیا جیسے کسی نے اس کے بدن سے خون نچودیا ہو۔وہ یقین اور بے یقینی کے عالم میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کی بیوی نے ایک معمولی سی بات پر عدالت سے رجوع ہوکر اسے طلاق لینے کی مانگ کی ہے۔
پھر جو نہی اس نے اس جانکاہ خبر کو ماں سے سُنانے کیلئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونے لگے اور دماغ کی نسیں پھٹنےلگیں نہ جانے کب اس کی ماں پچھلی سیٹ پر بیٹھی ایک طرف لڑھک کر گر پڑی تھی۔ شاید وہ بیٹے کے ارادے کو پہلے ہی بھانپ چکی تھی کہ وہ اسے اولڈ ایج ہوم میں چھوڑنے کے لئے جارہا ہے۔
ٹینگہ پورہ نواب ازار سرینگر
6005368893