نئی دہلی: شمبھو بارڈر پر کسانوں کی تحریک نے ہفتہ 31 اگست کو 200 دن مکمل کر لیے۔ مظاہرین اب بھی مختلف مطالبات کے لیے وہاں جمع ہیں۔ اس دوران خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ بھی صبح وہاں پہنچیں۔ یہاں کسانوں نے ونیش پھوگاٹ کا استقبال کیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ انہیں سیاست کا کوئی علم نہیں ہے لیکن ہر جگہ کسان ہیں اور وہ پہلے بھی کھیتوں میں کام کر چکی ہیں۔ونیش پھوگاٹ نے کہا کہ ہر کوئی مجبوری میں احتجاج کرتا ہے۔ جب احتجاج زیادہ دیر تک جاری رہتا ہے تو لوگوں کو امید پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہمارے ہی لوگ سڑکوں پر بیٹھنے کو مجبور ہوں گے تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟ مجھے لگتا ہے کہ ہر کسی کو اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر آنا چاہیے۔خیال رہے کہ کسان دیگر اہم مطالبات کے ساتھ تمام فصلوں کیلئے ایم ایس پی کی قانونی ضمانت کو لے کر 13 فروری سے شمبھو بارڈر پر احتجاج کر رہے ہیں۔ تاہم پولیس نے ان کے دہلی مارچ کو روک دیا تھا۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ جلد ہی کھنوری، شمبھو اور رتن پورہ سرحدوں پر کسانوں کی بڑی تعداد جمع ہونے والی ہے۔امرتسرکے ایک کسان قائد بلدیو سنگھ بگا نے کہا کہ حکومت سے مذاکرات کی کوششیں کی گئیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ حکومت کسانوں کی آواز کو دبا رہی ہے۔کسان مزدور مورچہ کے کنوینر سرون سنگھ پنڈھر نے بالی ووڈ اداکارہ اوررکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر زور دیا ہے کہ وہ کنگنا رناوت کے خلاف سخت موقف اختیار کرے، جن کے تبصروں نے کسان برادری کے اندر غصہ پیدا کیا ہے۔










