سری نگر//لداخ یونین ٹریٹری کے مسلم اکثریتی ضلع کرگل میں مختلف سیاسی، مذہبی، سماجی اور طلبہ تنظیموں کے اتحاد کرگل ڈیموکریٹک الائنس یا کے ڈی اے نے مرکزی حکومت سے دفعہ 370 و دفعہ 35 اے کی بحالی اور لداخ کو ریاست کا درجے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پانچ اگست 2019 کے بعد تشکیل دیے جانے والے کرگل ڈیموکریٹک الائنس کی 11 رکنی ٹیم نے جمعرات کو مرکزی وزارت داخلہ کے بلاوے پر قومی راجدھانی نئی دہلی میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی سے ملاقات کی اور متذکرہ مطالبات سامنے رکھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں 24 جون کو جموں و کشمیر کے سیاسی لیڈران کو فرداً فرداً وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے لئے مدعو کیا گیا تھا وہیں کرگل کی لیڈرشپ کو الگ الگ بلانے کی بجائے کرگل ڈیموکریٹک الائنس کو میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔کرگل سے تعلق رکھنے والے سینیئر سیاست دان حاجی اصغر علی کربلائی نے نئی دہلی سے یو این آئی اردو کو فون پر بتایا: ‘ہمارے دو بنیادی ایجنڈے ہیں۔ پہلا دفعہ 370 و دفعہ 35 اے کی بحالی اور دوسرا لداخ کے لئے ریاست کا درجہ۔ ہم نے واضح الفاظ میں کہا کہ خصوصی دفعات سے ہماری زمین اور نوکریوں کو تحفظ حاصل تھا۔ ہم خود کو محفوظ تصور کرتے تھے۔ ان دفعات کے خاتمے سے ہم خطرے میں آ گئے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘ہم نے کہا پانچ اگست 2019 سے پہلے ہمارے پاس پی آر سی ہوتی تھی۔ آج ہمارے پاس یہ ثابت کرنے کے لئے کہ کچھ نہیں ہے کہ ہم لداخی ہیں۔ 70 سال تک ہمیں اپنے نمائندے چننے کا حق تھا لیکن وہ سبھی چیزیں آپ نے چھین لیں۔ اب ان حقوق کو بحال کرنے کا وقت آ چکا ہے۔اصغر علی کربلائی نے کہا کہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نے ہمیں بتایا کہ ہم لداخ کو لے کر سنجیدہ ہیں اور آپ کے سبھی مطالبات وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ تک پہنچا دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا: ‘کشن ریڈی جی نے ہمیں بتایا کہ یہ ابھی شروعات ہے۔ فوراً کوئی فیصلہ نہیں لیا جا سکتا ہے۔ ہمارا بھی ماننا ہے کہ شروعات کم از کم بہت اچھی رہی۔ انہوں نے ہمیں بغور اور آرام سے سنا۔ ڈھائی گھنٹے تک میٹنگ چلی۔ اس دوران تلخ باتیں بھی ہوئیں۔کربلائی نے بتایا کہ دعوت نامہ کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے نام آیا تھا۔ یہ الائنس سیاسی، مذہبی اور سماجی اور طلبہ تنظیموں پر مشتمل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہماری 11 رکنی ٹیم نے میٹنگ میں شرکت کی۔ کے ڈی اے کے نام پر دعوت نامہ بھیجنے کا مطلب ہے کہ اس الائنس کو اب سرکاری سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ کے ڈی اے کرگل کے لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔حاجی کربلائی نے بتایا کہ ہم نے وزیر مملکت برائے داخلہ سے کہا کہ یہ بھارت سرکار کا ہی کہنا ہے کہ لداخ پسماندہ خطہ ہے جس کو ترقی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا: ‘ہم نے انہیں بتایا کہ آپ نے 24 جون کو جموں و کشمیر کی لیڈر شپ سے کہا کہ ہم ریاستی درجہ بحال کرنے کے وعدہ بند ہیں۔ اگر آپ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کریں گے تو لداخ کا بھی کیا جائے۔کربلائی نے بتایا کہ پانچ اگست 2019 کے بعد سے جن حالات سے کرگل کے لوگ گزر رہے ہیں ہم نے مسٹر ریڈی کو اپنا درد سنایا۔انہوں نے کہا:’ہم نے مسٹر ریڈی سے کہا کہ اگر آپ 1975 میں سکم کی ڈھائی لاکھ کی آبادی کو 30 رکنی اسمبلی دے سکتے ہیں تو ہماری آبادی چار سے پانچ لاکھ ہے اور ہمارا ایک وسیع علاقہ ہے تو ہمیں کیوں نہ دے سکتے۔ جبکہ ہمارا ایک حساس اور ہم ترین علاقہ ہے۔ ہمارے خطے میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔انہوں نے کہا: ‘ہم نے ان کو واضح الفاظ میں بتا دیا کہ ہم کوئی بیوروکریٹ اپنے سر پر بٹھائے نہیں رکھنا چاہتے ہیں۔ لداخ میں اگر کوئی حکومت کرے گا تو وہ لداخی ہی ہوگا۔لیہہ کی لیڈرشپ کی آئین ہند کے چھٹے شیڈول کے مطالبے کے بارے میں پوچھے جانے پر اصغر علی کربلائی نے بتایا: ‘اب وہ چھٹے شیڈول کو چھوڑ کر اسمبلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بہت جلد وہ بھی ریاستی درجے کا ہی مطالبہ کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم نے مسٹر ریڈی سے بھی کہا کہ آپ نے ہمارا درجہ کم کر کے یونین ٹریٹری بنایا ہے۔ ہر کوئی اپ گریڈ ہوتا ہے لیکن آپ نے ڈائون گریڈ کیا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ آپ ریاستی درجہ اور دیگر حقوق بحال کریں۔قبل ازیں نئی دہلی میں گذشتہ جمعرات یعنی 24 جون کو کو وزیر اعظم مودی نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر جموں و کشمیر کی سبھی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کی میٹنگ کی صدارت کی جس میں آٹھ سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 14 سیاسی رہنمائوں بشمول چار سابق وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔وزیر داخلہ امت شاہ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعظم کے دفتر میں تعینات وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔بتایا جا رہا ہے کہ اُس میٹنگ کے دوران وزیر اعظم مودی نے سیاسی رہنمائوں کو خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کا وعدہ کیا ہے نہ ریاستی درجے کی فوری بحالی کا۔ تاہم اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کے فوراً بعد اسمبلی انتخابات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔مرکزی حکومت نے پانچ اگست 2019 کو نہ صرف جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کی تھی بلکہ اس خطے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے وفاق کے زیر انتظام دو علاقوں میں تبدیل کر دیا تھا۔










