کرکٹ عالمی کپ میں 7 اکتوبر کو دو مقابلے رکھے گئےتھے، جن میں سے پہلا مقابلہ بنگلہ دیش و افغانستان کے درمیان ختم ہو چکا ہے اور سری لنکا و جنوبی افریقہ کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ پہلے مقابلے میں بنگلہ دیش نے افغانستان کو 6 وکٹ کے بڑے فرق سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں فتح کے ساتھ آغاز کیا ہے۔ میچ میں افغانستان کی بلے بازی انتہائی مایوس کن رہی جس کا خمیازہ انھیں شکست کی شکل میں بھگتنا پڑا۔ٹاس بنگلہ دیش کے کپتان شکیب الحسن نے جیتا تھا اور پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا۔ بنگلہ دیش کے سلامی بلے بازوں نے شروعات ٹھیک ٹھاک دی تھی، لیکن پہلا وکٹ جب گرا تو اس کے بعد کوئی بھی کھلاڑی میدان پر زیادہ دیر ٹک نہیں سکا۔ رحمان اللہ گرباز نے سب سے زیادہ 47 رن بنائے، جبکہ ابراہیم زادران اور عظمت اللہ عمرزئی نے 22-22 رن بنائے۔ کپتان حشمت اللہ شاہدی اور رحمت شاہ نے 18-18 رنوں کا تعاون کیا۔ پوری ٹیم 37.2 اوورس میں 156 رنوں پر پویلین لوٹ گئی۔بنگلہ دیش کی طرف سے کپتان شکیب الحسن اور مہدی حسن میراز کو 3-3 وکٹ ملے، جبکہ شریف الاسلام نے 2 وکٹ حاصل کیے۔ باقی گیندبازوں تسکین احمد اور مستفیض الرحمن کے حصے میں 1-1 وکٹ آئے۔ مہدی حسن میراز انتہائی کفایتی گیندباز ثابت ہوئے جنھوں نے 9 اوورس میں محض 25 رن دیے۔بنگلہ دیش کی جب بلے بازی شروع ہوئی تو پہلا وکٹ تنزید حسن (5 رن) کی شکل میں جلد ہی گر گیا جب انھیں نجیب اللہ زادران نے رَن آؤٹ کر دیا۔ لٹن داس (13 رن) بھی کچھ کمال نہیں کر سکے، لیکن اس کے بعد مہدی حسن میراز اور نجم الحسن شانٹو نے بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ پوری طرح سے بنگلہ دیش کی طرف موڑ دیا۔ مہدی حسن میراز نے 73 گیندوں پر 57 رن کی اننگ کھیلی، جبکہ نجم الحسن شانٹو 83 گیندوں پر 59 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ کپتان شکیب الحسن نے بھی 19 گیندوں پر 14 رنوں کا تعاون کیا۔ مشفق الرحیم 2 رنوں پر ناٹ آؤٹ رہے۔ اس طرح بنگلہ دیش نے 34.4 اوورس میں 4 وکٹ کے نقصان پر 158 رن بنا ڈالے، اور 6 وکٹ سے آسان جیت درج کی۔ افغانستان کی طرف سے فضل حق فاروقی، نوین الحق اور عظمت اللہ عمرزئی کو 1-1 وکٹ حاصل ہوئے۔ مہدی حسن میراز کو ان کی آل راؤنڈ کارکردگی کے لیے پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔










