سرینگر//کرونا وائرس کی وبائی بیماری میںتھوڑی سی راحت ملنے کے ساتھ ہی کشمیر کے اطرا ف واکناف میں خلاف ورزیوں کے لامنتہائی سلسلے پرطبعی ماہرین نے ایک دفعہ پھر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوکچھ بھی دیکھنے کامل رہاہے اس کے مثبت نتائج سامنے نہیں آ سکتے ہے جس بڑے پیمانے پر شادی بیاہ کی تقریبات کے دوران قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی ہورہی ہے پارکوں صحت افزاء مقامات پر لوگوں کاسیلاب امڑنے لگا ہے اور اس دوران نہ تو سماجی دوری قائم رکھنے اور نہ ہی ماسک پہننے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے ،جبکہ قانون نافز کرنے والے ادارے کے سامنے ہی مسافر بردارگاڑیوں میں آور لوڈنگ کاسلسلہ بھی عروج پرپہنچ گیاہے جو اس بات کی عکاس ہے کہ اب انتظامیہ نے بھی وبائی بیماری کوہلکے میں لیناشروع کردیااور لوگوں کوخلاف ورزی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔ اے پی آ ئی کے مطابق پچھلے ایک ہفتے سے جموں وکشمیر میں کروناوائرس وبائی بیماری کے تیور اگرچہ کسی حدتک نرم پڑگئے ہے تاہم یہ وبائی بیماری پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ اب بھی جموں کشمیرمیں ہردن نصف درجن سے زیادہ افراد کی جانیں ضا ئع ہورہی ہے اور تین سو کے قریب افراداس بیماری سے متاثرہورہے ہیں تاہم ملک بھرکی طرح جموں وکشمیر میں بھی وبائی بیماری کے تیور نرم پڑ گئے ہے اور سرکار کی جانب سے اَن لاک ڈاون میں دن بدن اضافہ کیاجارہاہے عوام کوراحت پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ساتھ ہی احتیاب برتنے کی بھی تلقین کی جارہی ہے جسکی طرف لوگت توجہ نہیں دے رہے ہے بلکہ اپنی من مانیاں جاری رکھے ہوئے ہے سماجی دوری قائم رکھنے کی اب ضرو ر ت محسوس نہیںکی جاتی ہے ماسک پہننے کو اب لوگ اپنے لئے مشکل تصور کررہے ہے اَن لاک ڈاون کے ساتھ ہی شہروں اور قصبوں میں شادی کی تقریبات کاسلسلہ بھی شروع ہوا ہے اور شادی کی ان تقریبات کے دوران جہاں سرکار نے پہلے ہی مہمانوں کی حد مقررکی تھی وہی اب ان تقریبات میں مہمانوں کومدعوکیاجاتاہے اور جوقوائدوضوابط حکومت کی جانب سے وبائی بیماری سے نمٹنے کے لئے لاگو کئے گے ہے ا نہیں نظراندازکیاجاتاہے مسافربردار گاڑیوں میں اگرچہ سوفیصد مسافروں کوسوار کئے جانے کی اجازت دی گئی ہے تاہم سری نگر شہرکے ساتھ ساتھ دوسرے قصبوں میں آورلوڈنگ کا سلسلہ عروج پرپہنچ گیاہے ہرطرح سے قوائدو ضوابط کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور اس بات کی طرف کوئی تو جہ نہیں دی جارہی ہے کہ کروناوائرس کی بیماری اب بھی موجود ہے ۔طبعی ماہرین نے سرکارسے مطالبہ کیاکہ اگر قانون کی خلاف ورزی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے تو پھروبائی بیماری میں مبتلاہونے والے بیماروں کاعلاج کرنے کی بھی کیاضرورت ہے ۔طبعی ماہرین نے بڑھتی ہوئی خلاف ورزی کوناقابل برداشت قراردیتے ہوئے کہاکہ وبائی بیماری کے تیور کم توہوگئے ہے لیکن یہ بیماری اب بھی موجود ہے لوگ اب بھی اس کی لپیٹ میں آ رہے ہے اس مرض سے محفوظ رہنے کے لئے واحدعلاج احتیاط ہے جو ہرایک کیلئے لازمی ہے ۔طبعی ماہرین نے سرکارسے مطالبہ کیاکہ قانون نافز کرنے والے اداروں کومتحرک کیاجائے اور جہاں کئی بھی خلاف ورزی ہورہی ہے اس کاسنجیدہ نوٹس لے کرلوگوں کوقوائدوضوابط رعمل کرنے کے لئے مجبور کیاجا ئے تاکہ جس تیسری لہرکے امکانات ظاہرکئے جارہے ہے اس سے نمٹنے میں مشکلوں کاسامناناکرنا پڑیں۔










