dooran

کاوڈارہ میں نکاس آب نظام ٹھپ

متعدد علاقوں کی سڑکیں زیر آب،مقامی باشندے پریشان حال

سرینگر// پائین شہر کے کاؤڈرہ کے متعدد علاقوں سید صاحب کوچہِ، بڑھ محلہ اور آستان عالیہ کے متصل پانی کی عدم نکاسی سے مقامی لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وی او آئی کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک سال پہلے اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا تھا،جس کے بعد پانی کی نکاسی کے نظام کی ناکامی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقے گزشتہ آٹھ ماہ سے پانی کے بھراؤ اور سیوریج کی بدترین حالت کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانی کی نکاسی کے نظام کی ناکامی کی وجہ سے سڑکوں اور گھروں میں پانی جمع ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ مقامی باشندے کئی بار متعلقہ محکموں کے دروازے پر دستک دے چکے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس حل نہیں نکل سکا۔ امتیاز احمد نامی شہری نے بتایا کہ رواں مہینوں میں پانی کا بھراؤ اس قدر شدید ہو گیا کہ لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے، بزرگ، اور خواتین پانی سے بھرے ہوئے راستوں سے گزرنے پر مجبور ہیں، جس سے نہ صرف ان کی صحت کو خطرہ لاحق ہے بلکہ روزمرہ کی زندگی بھی متاثر ہو چکی ہے۔رہائشی علاقے کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے مقامی رہائشی راجہ احمد نے کہا’’زندگی اب بہت مشکل ہو چکی ہے۔ نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، اور پانی کے بھراؤ کی وجہ سے ہمارا کام کاج، روزگار اور گھر کا سکون متاثر ہو رہا ہے۔ ہم کئی بار متعلقہ محکموں کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہ کر چکے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی کارگر حل نہیں نکلا۔‘‘علاقے میں پانی کی نکاسی کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے مقامی افراد کو مختلف بیماریوں کا سامنا بھی ہو رہا ہے۔ پانی کی گندگی اور بدبو سے ناصرف ماحول آلودہ ہو چکا ہے بلکہ لوگوں کے لئے اس کی وجہ سے صحت کے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف مقامی افراد کے لئے بلکہ پورے کاؤڈرہ ڈاؤن ٹاؤن کے لئے ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس معاملے کی فوری حل کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنایا جا سکے اور اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کی اصل مقاصد کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔ مقامی لوگ متعلقہ حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ ان کی زندگیوں میں سکون واپس آئے اور پانی کی نکاسی کا نظام بہتر بنایا جائے۔مقامی باشندوں نے بتایا کہ اس تمام صورتحال سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کی کامیابی کا دارومدار صرف جدید انفراسٹرکچر کی تکمیل تک نہیں بلکہ مقامی ضروریات اور مسائل کی فوری حل کی جانب بھی ہے۔