modi

کانگریس ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث

غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو آسام میں بسانا چاہتی ہے: مودی

سرینگر///یو این ایس وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کانگریس پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ جماعت ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو آسام میں بسانے کی کوشش کر رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق آسام کے ضلع ڈبروگڑھ کے نام روپ علاقے میں 10 ہزار 601 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے جدید فرٹیلائزر پلانٹ کے افتتاح کے بعد ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ آسام کے عوام کے مفادات، شناخت اور وقار کو نظر انداز کیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس کو نہ تو آسام کے اصل باشندوں کی شناخت کی فکر ہے، نہ ان کے وجود اور نہ ہی ان کی تہذیبی و سماجی پہچان کا خیال رکھا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی کی مخالفت محض اقتدار حاصل کرنے کے لیے کی جا رہی ہے، کیونکہ کانگریس صرف ووٹ بینک کی سیاست کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آسام کے عوام کی شناخت، زمین، وقار اور وجود کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی رہے گی۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کانگریس حکومت کے دور میں نام روپ کے قدیم فرٹیلائزر پلانٹ کو جدید بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں کسانوں کو طویل عرصے تک کھاد کی قلت اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ نئی یوریا فیکٹری نہ صرف کسانوں کی ضروریات پوری کرے گی بلکہ اس سے آسام کے نوجوانوں کے لیے ہزاروں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ فرٹیلائزر پلانٹ ملک کی صنعتی ترقی کی ایک مضبوط مثال بنے گا اور اس کی سالانہ پیداوار 12.7 لاکھ میٹرک ٹن ہوگی، جس سے کھاد کی سپلائی چین مزید مؤثر ہوگی اور لاجسٹک اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کسانوں کو مسلسل اور بروقت یوریا کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی ترقی کسانوں کی خوشحالی سے جڑی ہوئی ہے اور اسی مقصد کے تحت بی جے پی حکومت نے متعدد کسان دوست اسکیمیں متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں یوریا کی مجموعی پیداوار 2014 میں 225 لاکھ میٹرک ٹن تھی، جو اب بڑھ کر 306 لاکھ میٹرک ٹن ہو چکی ہے، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت 380 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جس خلا کو ختم کرنے کے لیے حکومت مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔وزیر اعظم نے کسانوں کو یوریا کے بے جا استعمال سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حد سے زیادہ یوریا کا استعمال زمین کی زرخیزی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین ہماری ماں ہے، اس کی حفاظت کریں گے تو یہی زمین ہمیں بہتر پیداوار دے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کسانوں کو قرض اور سبسڈی کے لیے دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں، اسی لیے براہ راست مالی امداد ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جا رہی ہے۔ یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم کے مطابق پی ایم کسان سمان ندھی اسکیم کے تحت اب تک تقریباً چار لاکھ کروڑ روپے کسانوں کے کھاتوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس کے دور میں ملک بھر میں کئی فرٹیلائزر فیکٹریاں بند ہو گئیں، جبکہ موجودہ حکومت نے نئی فیکٹریاں قائم کر کے صنعتی ترقی کو نئی رفتار دی ہے۔ انہوں نے پام آئل مشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے شمال مشرقی ریاستیں خوردنی تیل کے معاملے میں خود کفیل ہوں گی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ شمال مشرقی بھارت کی ترقی کے بغیر ملک کی مجموعی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برسوں کے دوران ملک میں 25 کروڑ سے زائد افراد کو غربت سے نکالا گیا اور ایک نیا متوسط طبقہ وجود میں آیا ہے۔آخر میں وزیر اعظم نے کہا کہ جو کچھ سابقہ حکومتوں نے نظر انداز کیا، موجودہ حکومت پوری دیانت داری، عزم اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس کی تلافی کر رہی ہے اور آسام کو ایک بار پھر مضبوط، خوشحال اور خود کفیل بنانے کے لیے پرعزم ہے۔