کامن ویلتھ گیمز سے سری لنکن دستے کے 10ارکان غائب

معاشی بحران کے شکار سری لنکا کے کامن ویلتھ گیمز کے دستے کے 10ارکان برطانیہ میں قیام کی مبینہ کوشش میں برمنگھم سے غائب ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا کے شعبہ کھیل کے اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کھیل کی سرگرمیاں مکمل کرنے کے بعد سری لنکا کے 9ایتھلیٹس اور ایک منیجر غائب ہوگئے ہیں۔ان میں سے تین ایتھلیٹس جوڈوکا چمیلا دلانی، ان کے منیجر اسیلا ڈی سلوا اور پہلوان شانتھ چتھورنگا گزشتہ ہفتے لاپتا ہوگئے تھے، جس پر سری لنکن حکام نے پولیس کو شکایت کردی تھی۔تاہم اس کے بعد مزید 7 کھلاڑی لاپتا ہوگئے ہیں جن کی اعلیٰ افسر نے شناخت نہیں بتائی۔افسر نے کہا کہ ہمیں شک ہے کہ ممکنہ طور پر ملازمت کے حصول کے لیے کھلاڑی برطانیہ میں قیام کرنا چاہتے ہیں۔160 ارکان پر مشتمل سری لنکا کے دستے کی انتظامیہ کے پاس تمام اراکین کے پاسپورٹ موجود ہیں تاکہ ان کی وطن واپسی کو یقینی بنایا جاسکے، لیکن یہ عمل بھی کچھ ارکان کو روکنے میں ناکام رہا۔سری لنکا کے عہدیدار نے بتایا کہ برطانوی پولیس نے لاپتا ہونے والے پہلے تینوں ارکان کو ڈھونڈ نکالا تھا مگر چونکہ انہوں نے مقامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی اور ان کے پاس چھ ماہ کا ویزا ہے اس لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ حقیقت میں پولیس نے ہمیں وہ پاسپورٹ واپس کرنے پر مجبور کیا جو ہم نے انحراف کے خلاف رکاوٹ کے طور پر اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ہمیں ان کے ٹھکانوں کے بارے میں اطلاع نہیں دی۔ماضی میں بھی سری لنکا کے کھلاڑی بین الاقوامی کھیلوں سے لاپتا ہوچکے ہیں۔گزشتہ سال اکتوبر میں سری لنکا کے ریسلنگ منیجر اوسلو میں ورلڈ چیمپئن شپ ٹورنامنٹ کے دوران اپنی ٹیم کو چھوڑ کر لاپتا ہوگئے تھے۔جنوبی کوریا میں 2014کے ایشین گیمز کے دوران سری لنکا کے دو ایتھلیٹس وہاں سے لاپتا ہوئے اور پھر واپس نہیں گئے۔2004میں جب سری لنکا کے پاس قومی ہینڈ بال ٹیم بھی نہیں تھی تو ایک 23 رکنی گروہ نے ملک کی نمائندگی کا بہانہ بنا کر جرمنی میں ہونے والے ایک ٹورنامنٹ میں شرکت کی اور پھر وہاں سے لاپتا ہوگیا۔