کاروبار ، ہنرمندی اور اِدارہ جاتی اِصلاحات کے ذریعے دیرپا روزگار پیدا کرنا حکومت کی ترجیح۔ نائب وزیراعلیٰ

جموں//نائب وزیر اعلیٰ سریندرکمار چودھری نے آج کہا کہ بے روزگاری کا سدباب کرنا جموںوکشمیر حکومت کی اوّلین ترجیح ہے اور توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کاروباری سرگرمیوں، ہنرمندی کے فروغ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے دیرپا روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں تاکہ نوجوان روزگار کے متلاشیوں کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے بن جائیں۔نائب وزیر اعلیٰ نے یہ بات ایوان میں رُکن اسمبلی آغا سیّد منتظر مہدی کی طرف سے اُٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتائی۔اُنہوں نے بتایا کہ بے روزگاری سے نمٹنے کے لئے’ مشن یووا ‘پلیٹ فارم پرزائد اَز 1.71 لاکھ نوجوانوں نے رجسٹریشن کی ہے جس کے نتیجے میں تقریباً 70 ہزار باضابطہ کاروباری درخواستیں موصول ہوئی ہیں جو اس پروگرام پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔نائب وزیرا علیٰ نے کہا کہ تقریباً 52,875 اُمیدواروں کے لئے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈِی پی آرز) کو سمال بزنس ڈیولپمنٹ یونٹس (ایس بی ڈی یوز) کے ذریعے تیار کیا گیا ہے تاکہ تکنیکی اور مالیاتی دیرپائی کو یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوں نے مزید کہاکہ اَب تک 16,141 درخواستیں کامیابی سے مکمل ہو چکی ہیںجس کے نتیجے میں تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کے بینک قرضوں کی منظوری دی گئی ہے جن میں سے زائد اَز 700 کروڑ روپے کی رقم جاری بھی کی جا چکی ہے۔سریندر کمار چودھری نے کہا کہ ان اعداد و شمار کے نتیجے میں زمینی سطح پر ہزاروں کاروباری ادارے قائم ہو رہے ہیں، جنہیں منظم صلاحیت سازی پروگراموں کی مددحاصل ہے۔ اَب تک 7,339 کاروباری اَفراد نے تربیت مکمل کی ہے جبکہ مزید 5,000 اِس وقت زیر تربیت ہیں۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ جنوری 2025 ء میں کئے گئے ایک جامع سروے کے مطابق سروے کئے گئے کُل 64.8 لاکھ افراد میں سے 18 سے 60 برس کی عمر کے 4.73 لاکھ اَفراد نے بتایا کہ وہ کام نہیں کر رہے لیکن کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔ اِن میں سے 1.79 لاکھ اَفراد صوبہ جموں جبکہ 2.94 لاکھ اَفراد صوبہ کشمیرسے تعلق رکھتے ہیں۔نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ اِس وقت بینکوں کے پاس موجود 37,000 درخواستوں میں سے تقریباً 15,000 معاملات ایڈوانس مرحلے میں ہیں اور ضروری دستاویزی کارروائی مکمل ہونے کے بعد 31 ؍مارچ 2026ء تک منظورکئے جائیں گے جبکہ تقریباً 22,000 درخواستوں کو قرض کے قابل سمجھا گیا ہے اور آئندہ 3 سے 4 ماہ کے دوران مرحلہ وار منظور کئے جانے کی توقع ہے جو واضح طور پر ایک مضبوط اور ترقی پذیر منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتی ہیں، نہ کہ رُکاوٹ کی۔اُنہوں نے کہا کہ’ مشن یووا ‘کوئی سبسڈی پر مبنی یا بلا اِمتیاز قرضوں کی تقسیم کی سکیم نہیں ہے بلکہ ایک سخت، شفاف اور اعتماد پر مبنی کاروباری پروگرام ہے۔اُنہوںنے مزید کہا کہ کثیر مراحل کے جائزہ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر حقیقی اُمیدوار کو موقع ملے لیکن صرف مالی طور پر قابلِ عمل اور دیرپاکاروباروںکو ہی بینک مالی مدد کریں تاکہ عوامی وسائل اور نوجوان کاروباری اَفراد کے مستقبل دونوں کا تحفظ کیا جا سکے۔اِس موقعہ پر رُکن اسمبلی میر سیف اللہ نے ضمنی سوال اُٹھایا۔