جموں// محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی بائیوٹیکنالوجی کے لئے مستقبل کا روڈ میپ تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں یونین ٹیریٹری بائیوٹیکنالوجی پالیسی بھی شامل ہے۔ کمشنر سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے آج ایک جامع جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں سینئر افسران نے ہندوستان کے ممتاز بائیوٹیکنالوجی کلسٹروں بشمول جینوم ویلی ( حیدر آباد ) ، گوہاٹی بائیوٹیک پارک اور لکھنؤ ویزاک اور چندی گڑھ میں موجود سہولیات پر اَپنے وسیع سٹیڈی دوروں کے نتائج پیش کئے ۔اِس وفد میں سپیشل سیکرٹری ریاض احمد بیگ ، ڈائریکٹر فائنانس مدن لال ، ایڈیشنل سیکرٹری جے کے ایس ٹی آئی سی نیلم کھجوریہ ، ایڈیشن ڈائریکٹر ڈاکٹر مشتاق احمد ، ڈپٹی سیکرٹری آصف چند یل اور دیگر شامل تھے جنہوں نے ان قائم شدہ بائیوٹیک ہبوں میں آپریشنل ماڈلوں، ٹیکنالوجی انکیوبیشن فریم ورک اور صنعت و تعلیم کے شعبوں کے روابط کا مطالعہ کیا۔ ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر عبدالخبیر نے ایک تفصیلی پرزنٹیشن دی جس میں دُنیا بھر کی بہترین عملی مثالیں اور جموںوکشمیر کے لئے خصوصی شعبہ جاتی مواقع کو اُجاگر کیا۔ڈاکٹر شاہد اِقبال نے جموں و کشمیر بائیوٹیکنالوجی پالیسی کی تیاری کے لئے فوری اقدامات کی ہدایت دی اور کہا کہ یونین ٹیریٹری غیر معمولی قدرتی وسائل اور غیر استعمال شدہ سائنسی صلاحیت کے سنگم پر واقع ہے۔زائد از 6500 پودوں کی اقسام جن میں 200 سے زائد قیمتی ادویاتی اور خوشبودار پودے زعفران، لیونڈر، جنگلی مشروم، نایاب جڑی بوٹیاںشامل ہیں اور جموں کے ذیلی گرم علاقوں سے کشمیر کے الپائن علاقوں تک منفرد موسمی خطے موجودہیں۔ جموں و کشمیر کے پاس بائیو اکانومی میں قدرتی برتری موجود ہے جو اس وقت 130 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور قومی اِی تھری بائیو پالیسی کے تحت 2030 ء تک 300 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔سیکرٹری نے اِس بات پر زور دیا کہ مجوزہ پالیسی میں زرعی بائیوٹیکنالوجی کے ذریعے فصلوں کی بہتری اور موسمیاتی تبدیلی کے لئے فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ میں فائیٹو کیمیکل تنوع سے فائدہ اٹھانا، باغبانی پیداوار سے فوڈ پروسسنگ اور نیوٹراسیوٹیکلز، ڈیری بائیوٹیکنالوجی کے ذریعے پروبائیوٹک اختراعات، صنعتی انزائم پیداوار اور ڈل اور ولر جھیلوں جیسے آبی ذخائر کے لئے ماحولیاتی بائیوری میڈیشن پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ یہ پالیسی بائیو مینوفیکچرنگ میں نئی ویلیو چینز پیدا کرے گی اور خام مال کی برآمد سے آگے بڑھ کر زیادہ منافع بخش بائیوٹیک مصنوعات تیار کرنے میں مدد دے گی۔ڈاکٹر شاہد اقبال نے نوجوانوں کے روزگار کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے تعلیمی اداروں سے بائیوٹیکنالوجی گریجویٹوں کے لئے منظم انٹرن شپ پروگرام تجویز کیا تاکہ تعلیمی تربیت اور صنعتی استعمال کے درمیان براہ راست رابطہ قائم ہو سکے۔محکمہ ڈی بی ٹی کی مالی معاونت سے دو انڈسٹریل بائیوٹیک پارکس کٹھوعہ (جموں خطہ) اور ہندواڑہ (کشمیر خطہ) قائم کر رہا ہے جن پر مرکزی حکومت کی مجموعی سرمایہ کاری 84.66 کروڑ روپے ہے۔ یہ مراکز صنعتی بائیوٹیکنالوجی میں سینٹر آف ایکسی لینس کے طور پر کام کریں گے اور سٹارٹ اپ انکیوبیشن، ٹیکنالوجی کمرشلائزیشن اور فرمینٹیشن، انزائم ٹیکنالوجی، جڑی بوٹیوں کے اخراج اور تجزیاتی ٹیسٹنگ میں تحقیق و ترقی کو فروغ دیں گے۔جینوم ویلی کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل اور گوہاٹی بائیوٹیک پارک کی انکیوبیشن کامیابیوں سے سیکھتے ہوئے ڈی ایس ٹی کا ویژن جموں و کشمیر کے بائیوٹیک ایکو سسٹم کو ایک وسیع تر ہم آہنگی کے فریم ورک میں شامل کرتا ہے۔ سکاسٹ جموں اور سکاسٹ کشمیر کے ساتھ شراکت داری اور سی ایس آئی آر۔آئی آئی آئی ایم کی فارماسیوٹیکل تحقیق و ترقی کی صلاحیتیں مقامی علم کو پیٹنٹس، مصنوعات اور خوشحالی میں تبدیل کرنے میں مدد فراہم کریں گی۔ سیکرٹری نے کہا کہ بائیوٹیکنالوجی صرف ایک پالیسی شعبہ نہیں بلکہ ایک تبدیلی کا راستہ ہے جو جموں و کشمیر کی حیاتیاتی تنوع کو بائیو ویلتھ میں سائنسی اداروں کو اختراعی مراکز میںاور اس کے نوجوانوں کوہندوستان کے بائیومینوفیکچرنگ دور کے لئے تربیت یافتہ بائیوٹیک ورک فورس میں تبدیل کرے گی۔










