جموں//حکومت نے ایوان کو آگاہ کیا کہ محکمہ اطلاعات نے ڈائریکٹوریٹ آف اِنفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز (ڈِی آئی پی آر) میں ایک مخصوص میڈیا مانیٹرنگ سیل (ایم ایم سی) قائم کیا ہے تاکہ بر وقت بنیاد پر جعلی اور گمراہ کن خبروں کا پتہ لگایا جا سکے اور پریس ریلیز اور آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارموںکے ذریعے فوری تردید جاری کی جا سکے۔وزیر تعلیم سکینہ اِیتو نے یہ بات آج قانون ساز اسمبلی میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے رُکن اسمبلی آر ایس پٹھانیہ کے سوال کا جوا ب دیتے ہوئے کہی جس میں غلط معلومات سے نمٹنے کے اَقدامات کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔اُنہوں نے بتایا کہ میڈیا مانیٹرنگ سیل (ایم ایم سی) مسلسل پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کی نگرانی کرتا ہے اور جیسے ہی کوئی جعلی یا گمراہ کن مواد سامنے آتا ہے، عوام کو باخبر رکھنے کے لئے تردیدی بیانات اور فیکٹ چیک پوسٹس جاری کی جاتی ہیں۔وزیر موصوفہ نے ایوان کو بتایا کہ یکم؍ اپریل 2025 ء سے 31 ؍جنوری 2026 ء کے درمیان ڈی آئی پی آر کی جانب سے 28تردیدیں جاری کی گئیں جن میں سے 20پریس ریلیز کے ذریعے اور آٹھ سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے جاری ہوئیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ تمام محکموں میں محکمہ جاتی غلط معلومات کی نگرانی کے لئے نوڈل اَفسران نامزد کئے گئے ہیں۔ ان افسران کو ڈِی آئی پی آر کے قائم کردہ ایک مخصوص پورٹل پر جعلی خبروں کی تفصیلات اَپ لوڈ کرنے کے لئے لاگ اِن اسناد فراہم کی گئی ہیں تاکہ بروقت تردید اور تشہیر ممکن بنائی جا سکے۔وزیر سکینہ اِیتو نے واضح کیا کہ ویب سائٹس، ڈیجیٹل پلیٹ فارموں اور آن لائن نیوز چینلوں کا ضابطہ محکمہ اطلاعات کے دائرہ اِختیار میں نہیں آتا اور غلط معلومات پھیلانے والی تنظیموں پر جُرمانہ یا سزائیں عائد کرنا بھی اس کے اِختیار میں شامل نہیں ہے۔اُنہوں نے یہ بھی واضح کہاکہ محکمہ اطلاعات کسی بھی نجی فیکٹ چیکنگ یونٹ (ایف سی یو) کو تسلیم یا مجاز قرار نہیں دیتا اور نہ ہی ایسی کسی تنظیم کی تصدیق یا درجہ بندی کرتا ہے۔وزیر موصوفہ نے میڈیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئے اور سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا کے لئے ایک ضابطہ جاتی فریم ورک قائم کرنے کی خاطر مجوزہ نئی میڈیا پالیسی 2026 کے مسودے میں مناسب دفعات شامل کی گئی ہیں اور یہ مسودہ اِس وقت مختلف محکموں کے مابین مشاورت کے مرحلے میں ہے۔اُنہوں نے اِنفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ سے معلومات کا اِشتراک کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری محکموں اور اِداروں میں سائبر سکیورٹی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور اُبھرتے ہوئے سائبر خطرات اور ڈیجیٹل ہیرا پھیری سے نمٹنے کے لئے جامع اَقدامات کئے گئے ہیں۔سکینہ اِیتو نے بتایا کہ سٹیٹ ڈیٹا سینٹر اور این آئی سی منی ڈیٹا سینٹر پر ہوسٹ کی گئی ویب سائٹس اور ویب ایپلی کیشنز کے لازمی سکیورٹی آڈٹ کئے گئے ہیںجب کہ غیر ضروری ویب سائٹس کو بند کر دیا گیا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ چیف سیکرٹری کی صدارت میں ماہانہ جائزوں ، اِنفارمیشن سیکورٹی سٹیئرنگ کمیٹی کے قیام اور تمام محکموں اور اضلاع میں داخلی سیکورٹی افسران اور تکنیکی ماہرین کی نامزدگی کے ذریعے جموں و کشمیر میں سائبر گورننس کو ادارہ جاتی بنایا گیا ہے۔وزیر موصوفہ نے کہا کہ تمام محکموں نے سائبر کرائسز مینجمنٹ پلان تیار کئے ہیں جبکہ سائبر ڈرلز، تربیتی پروگرام، سائبر جاگروکتا دیوس کی تقریبات اور لازمی آئی جی او ٹی سائبر سکیورٹی کورسوں جیسے استعداد کار بڑھانے کے اَقدامات بھی پورے یونین ٹیریٹری میں جاری ہیں۔اُنہوں نے ضمنی جواب میں کہا کہ جعلی یا گمراہ کن خبروں کی تردید اخبارات کے اگلے اشاعتی ایڈیشن میں شائع کرنے کے لئے بھی جاری کی جاتی ہے۔اِس کے علاوہ انہیں ڈِی آئی پی آر کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر میڈیا پالیسی 2020 کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز( ڈی آئی پی آر) کو جعلی خبروں، سرقہ اور غیر اخلاقی یا ملک مخالف سرگرمیوں پر مبنی مواد کی نگرانی کا اختیار حاصل ہے اور ایسے معاملات میں میڈیا اِداروں کو پینل سے خارج کرنے یا سرکاری اشتہارات روکنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسے ادارے پریس اینڈ رجسٹریشن آف پیریاڈیکلز ایکٹ 2023 کے تحت پریس رجسٹرار جنرل آف انڈیا کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں تو اس قانون کے تحت ان کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی سفارش بھی کی جا سکتی ہے۔










