ابتدائی فائرنگ میں کپیٹن ، تین فوجی اور ایس او جی اہلکار از جاں
سرینگر // جموں کے ڈوڈہ جنگلات میںفوج و فورسز اور ملی ٹنٹوں کے مابین تصادم آرائی میں فوجی کیپٹن سمیت چار فوجی اور ایک ایس او جی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے ۔ جموں میں مقیم دفاعی ترجمان نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جنگلات میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری ہے ۔سی این آئی کے مطابق ڈوڑہ کے دیسہ جنگلات میں ملی ٹنٹوں کی موجودگی کے بعد طویل تلاشی آپریشن مسلح تصادم آرائی میں تبدیل ہو گیا جس دوران سوموار کی شام دیر گئے جنگلات میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں اور سیکورٹی فورسز کا با ضابطہ طور پر آمنا سامنا ہوا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سوموار کی شام دیر گئے جنگلات میں تلاشی کارروائی کے دوران وہاں موجود ملی ٹنٹوں کے ایک گروپ نے فرار ہونے کی کوشش کی اور تلاشی پارٹی پر فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی جنگلات میں جھڑپ شروع ہوئی ۔ ذرائع نے بتایاکہ جھڑپ کی شروعات کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز کی مزید کمک علاقے کی جانب روانہ کی گئی اور ملی ٹنٹوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا جس دوران ملی ٹنٹوں کے گروپ نے فورسز پر شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک فوجی کپٹن ، تین فوجی اور ایس او جی اہلکار طو رپر زخمی ہو گئے ۔ معلوم ہو اہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہو ئے فوجی اہلکار کو اسپتال علاج کیلئے پہنچایا گیا جہاں کپٹن ، تین فوجی اور ایس او جی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے ۔ابتدائی فائرنگ کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز کی اضافہ کمک علاقے میں پہنچ گئی جنہوں نے پورے جنگلات میںبڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا اور ملی ٹنٹوں کو ھونڈ نکالنے کیلئے کارورائی تیز کر دی گئی ہے ۔ دفاعی ترجما ن نے ا سکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سوموار کی شام دیر گئے دوڈہ کے دیسہ جنگلات میں مسلح تصادم آرائی کی شروعات کے ساتھ ہی ابتدائی فائرنگ میں چار فوجی اور ایس او جی اہلکار شدید زخمی ہو گئے ۔ جن کو اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے ۔ انہوں نے کہا کہ سوموار کو جنگلات میں ملی ٹنٹوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد راشٹریہ رائفلز (آر آر) اور جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں نے دیسہ جنگلاتی علاقے میں دھاری گوٹے اوراربگی میں مشترکہ محاصرہ اور تلاشی مہم شروع کی۔انہوں نے کہا کہ اس دوران وہاں گولیوں کا تبادلہ ہوا اور 20 منٹ سے زائد تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے میں ایک افسر سمیت چار فوجی اہلکار اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ جو بعد میں اسپتال میں دم توڑ بیٹھے ۔ فوج کی 16ویں کور، جسے‘وائٹ نائٹ کور’بھی کہا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہ جنگلات میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری ہے اور اضافی دستے علاقے میں بھیجے گئے ہیں، آپریشن جاری ہے۔










