13 سال سے غیرفعال، کسان پریشان، حکومت خاموش
سرینگر /وی او آئی//ڈورو چنہ گنڈ ویری ناگ میں محکمہ آبپاشی کی جانب سے 2013 میں سات کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ڈیم آج تک فعال نہ ہو سکا، جس پر عوامی حلقوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔مقامی لوگوںنے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور ڈپٹی کمشنر اننت ناگ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق ڈورو چنہ گنڈ ویری ناگ میں محکمہ آبپاشی کی جانب سے 2013 میں سات کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ڈیم آج تک فعال نہ ہو سکا، جس پر عوامی حلقوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کا بنیادی مقصد خشک سالی کے دوران مقامی کسانوں کو آبپاشی کی سہولت فراہم کرنا تھا تاکہ دھان، سیب اور دیگر فصلیں متاثر نہ ہوں، مگر 13 سال گزر جانے کے باوجود نہ پانی پہنچا، نہ کوئی فائدہ حاصل ہوا۔انہوں نے کہا کہ سات کروڑ خرچ کیے گئے، لیکن سات روپے کا بھی فائدہ نہیں ہوا۔ان کے مطابق اس ناکامی نے کھیتوں کو بنجر، باغات کو سوکھا، اور کسانوں کو شدید معاشی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈیم عوامی فلاح کے لیے تھا، مگر آج اس میں بچے کرکٹ کھیلتے ہیں۔اہم سوالات جن کے جوابات عوام چاہتے ہیں ڈیم 13 سال بعد بھی غیر فعال کیوں ہے اگر تکنیکی خامیاں تھیں تو ان کا ازالہ کیوں نہ کیا گیا؟کیا اس منصوبے پر کوئی تحقیقات یا آڈٹ رپورٹ تیار کی گئی ہے عوامی نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟بشیر احمد وانی نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو جموں و کشمیر اسمبلی میں اٹھایا جائے، اور ایک شفاف تحقیقاتی رپورٹ مرتب کر کے عوام کے سامنے رکھی جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جانا چاہیے تاکہ اس قسم کی عوامی رقوم کی بربادی آئندہ نہ ہو۔










