ماحولیات کے بچاوکیلئے لئے گئے فیصلے پر زمینی سطح پر کوئی عمل درآمد نہیں ہورہا
سرینگر/وی او آئی// سرکار کی جانب سے ڈسپوزل اشیائپر پابندی کے باجود بھی شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میں ڈسپوزل اشیائکا کاروبار بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔ اس ضمن میں متعلقہ محکمہ کی خاموشی کے نتیجے میں ڈسپوزل اشیائکاکاروبارکرنے والے افراد کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کے ماحولیات کو آلودگی سے پاک رکھنے کیلئے سرکار نے ڈسپوزل اشیائکی خریدوفروخت اور اس سے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی ہے ۔ تاہم شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر قصبہ جات میں ڈسپوزل اشیائکا کاروربار بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔وی او آئی کوذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ڈسپوزل اشیائکا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ پارلیمانی انتخابات سے بھی آرہی ہے کیوںکہ انتظامیہ ان دنوںانتخابات کرانے میں مصروف ہے اور وہ ایسے کاروباریوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔ سرکار نے شادی بیاہ کی تقریبات میں استعمال کئے جانے والے سنتھٹک سے بنے عارضی پلیٹوں، گلاسوں ، چاکوں ، اور دیگر چیزوں کے استعمال اور ان کے کاروبار پر پابندی لگائی ہے ۔ شہر سرینگر کے علاوہ ضلع اننت ناگ، کپوارہ، بارہمولہ اور بارہمولہ میں بھی ڈسپوزل اشیائکے کاروبار میں لوگ محو ہے ۔ اس ضمن میں ایک ڈسٹرکٹ آفسر پلوشن کنٹرول بورڈ نے نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ نے پہلے ہی ایسے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی ہے جو دسپوزل اشیائفروخت کررہے ہیں ۔ واضح رہے کہ وادی کشمیر میں پالتھین لفافوں اور ڈسپوزل اشیائکی خریدوفروخت پر مکمل پابند ی عائد ہے تاہم سرکار اور انتظامیہ کی جانب سے اس جانب عدم توجہی سے پالتھین لفافوں اور ڈسپوزل اشیائکا کاروبار دن دوگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے ۔










