کیا آپ نے کبھی کوئی گالی سنی ہے جس میں عورت کا تذکرہ کسی حوالے سے نہ ہو؟ اور کیا آپ نے کبھی یہ دیکھا ہے کہ خواتین جرگوں میں موجود ہوں اور فیصلوں میں شامل ہوں؟ ان جرگوں میں جہاں ان کی بات ہوتی ہے لیکن وہ خود نظر نہیں آتیں۔’جب گالی میں عورت شامل ہے تو فیصلوں میں کیوں نہیں۔‘ پاکستان میں ٹی وی سکرین پر ایسا منظر یا ڈائیلاگ نظر آئے تو وہ ضرور چونکا دیتا ہے۔اس ڈرامے کی آخری قسط کے اختتام سے پہلے اس منظر اور اس ڈائیلاگ نے وہ رنگ جما دیا تھا جو اس کاوش کا ’حاصل غزل‘ بنا۔مشران (قبائلی بزرگ) کا ایک جرگہ کھلے میدان میں قتل کی ایک واردات کا فیصلہ سنانے بیٹھا ہے۔ دور سے دیکھو تو گھنی مونچھ، داڑھی، ٹوپی، عمامے، اور پگڑی کا ایک اکٹھ ہے اور ایسے میں ٹیلے کے پیچھے سے زرغونہ چلی آتی ہیں، ان کے پیچھے شہرزاد، اس کے پیچھے گل مینا اور پھر کچھ عورتیں اور۔ان کی چادروں کو چار دیواری سے باہر دیکھ کر پگڑی والوں کے رنگ اُڑتے ہیں، داڑھیاں کپکپاتی ہیں اور عمامے لڑکھڑاتے ہیں۔ بمشکل ایک ’مشر‘ منمناتا ہے کہ ’یہ غول کہاں سے چلا آرہا ہے۔‘اس کے بعد جرگے میں مقتول کا وارث مردانہ للکار بحال کرنے میں کامیاب ہو کر کہتا ہے: ’جاؤ اپنے اپنے گھروں کو جاؤ اور اپنے مردوں کو بھیجو۔ مردوں کی محفل میں عورتوں کا کیا کام ہوتا ہے۔‘’(مگر) مردوں کی گالیوں میں تو ہوتا ہے‘ شہرِزاد کا یہ جواب جرگے میں موجود مردوں کے علاوہ پاکستانی ڈرامے کے ان ناظرین کے لیے بھی ہے، جنھیں شکوہ ہے کہ ڈراموں میں عورتوں کو روتا دھوتا دکھانا اور ساس بہو کے گھریلو جھگڑوں کی کہانیوں نے انھیں سکرین سے دور کر دیا ہے۔
کیا سنگ ماہ مردوں کی کہانی تھی؟
پہلی نظر میں دیکھا جائے تو یہ ڈرامہ مردوں کا ہے۔ با رعب حاجی مرجان اپنے خاندان کے ہی نہیں بلکہ اپنے علاقے کے لوگوں کے بھی بزرگ ہیں۔ہلمند اور حکمت ان کے دو بیٹے ہیں، سگا بیٹا حکمت ویسا ہی عاشق صادق ہے جیسا ’مرد‘ کو ہونا چاہیے۔ سوتیلا بیٹا ہلمند اپنے سگے باپ کے قتل پر انتقام کے لیے ایسے ہی بیتاب ہے جیسے ’مرد‘ کو ہونا چاہیے۔مستان سنگھ اپنی محبوبہ کی آن بچاتے ہوئے قتل کر چکا ہے اور کسی ’مرد‘ کی طرح اس کا اعتراف کر کے اپنے حصے کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس سزا کے دوران اپنی منھ بولی بیٹی کی ’عزت کی حفاظت میں غیرت‘ کھا کر ایک اور قتل کی کوشش بھی کر چکا ہے اور پھر مشران ہیں، حلیے سے لے کر شریعت کے نکتوں کے بیان تک وہ انسان سے زیادہ ’مرد‘ ہیں۔لیکن ڈرامے میں کرداروں کی پرتیں کھلتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے مرد کاٹھ کے الو نکلے اور عورتوں نے جب بھی فیصلے ہاتھ میں لیے، زندگی کا پلاٹ آگے بڑھا۔حاجی مرجان کی بیوی اپنے پہلے شوہر کو خود پر ’غگ‘ کرنے کے جرم پر اسے ذہر دے کر مار چکی ہیں اور حاجی سے شادی کا حق استعمال کرنے میں کامیاب ہے۔ہلمند شیکسپیر کے جذباتی، انتقام کی آگ میں پاگل اور دھوکہ کھائے ہوئے ہیرو کی طرح حاجی کو باپ کا قاتل سمجھتا ہے اور اس فریب سے نکلنے کی سمجھ بوجھ اس کے پاس نہیں۔عقلمند تو شہرزاد ہے جو استحصال کرنے والے خاندان اور بچپن سے جنسی زیادتی کرنے والے کزن کو منھ توڑ جواب دینے کے ساتھ، ہلمند سے محبت کے اعتراف کی جرات بھی رکھتی ہے۔حکمت، حکمت سے اسی طرح خالی ہے جیسے وہ سارے مرد عاشق جو باتیں چاند توڑ لانے کی کرتے ہیں لیکن ’امی نہیں مان رہیں‘ کی گتھی سلجھانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔کسی چٹان کی طرح جمی ہوئی اس کی محبوبہ گل مینا کے سامنے وہ ایک ہربڑایا ہوا بچہ لگتا ہے۔ مستان سنگھ اپنی بے صبری میں دوہرا قتل کرنے پر آمادہ ہے لیکن اس کی منگیتر ہرشالی صبر کے ساتھ لڑکپن، جوانی اور پھر بڑھاپا اس مرد کے انتظار میں کاٹ سکتی ہے جو اسے ایک قسم سے باندھ کر گیا ہے لیکن اسے اپنا نہیں سکتا، ’مجبور‘ ہے۔اور پھر زرغونہ ہے۔ مہا عورت۔ جس نے مستان سنگھ کے ہاتھوں خاوند کے قتل کے بعد جرگے میں کھڑے ہو کر فیصلہ کروایا، کھیتی اور ترکہ سنبھالا اور پھر اپنی بیٹی سمیت ان تمام عورتوں کے لیے کھڑی ہو گئی جو ’غگ‘ کا نشانہ بنیں۔ وہ قبائلی رسم جس کے تحت مرد ایک ہوائی فائر کر کے کسی بھی عورت پر ملکیت کا اعلان کر سکتا ہے اور پھر وہ قبر کی تو ہو سکتی ہے لیکن کسی اور مرد کی نہیں ہو سکتی۔کہانی اور کردار ’لس پیران‘ کے فرضی علاقے سے دکھائے گئے ہیں اور کردار، لب و لہجہ، رسومات پشتون قبائل سے مماثلت رکھتے ہیں لیکن اس ڈرامے کے مصنف کے بقول کہانی کی بنت کسی علاقے سے مخصوص نہیں۔پاکستان میں سوشل میڈیا پر سنگ ماہ تب سے ٹرینڈز کا حصہ بنا جب گلوکار عاطف اسلم کے کاسٹ میں شامل ہونے کی خبر آئی۔










