ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا اتحاد اور نظم و ضبط پر زور

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا اتحاد اور نظم و ضبط پر زور

“وقت آ گیا ہے کہ نوجوان چہرے سیاست میں آئیں”

سرینگر // وی او آئی//نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعہ کے روز کہا کہ پارٹی اپنی تنظیم کو ہر سطح پر مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے، مگر افسوسناک طور پر کچھ آوازیں اندر سے ہی اس کے خلاف اٹھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے پاس آج جو کچھ ہے وہ پارٹی کے تاریخی کردار اور قربانیوں کی بدولت ہے۔ شیخ عبداللہ کی 120ویں سالگرہ کے موقع پر نسیم باغ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا: “ہم تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے تبدیلیاں کر رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہی کچھ لوگ پارٹی کے خلاف بول رہے ہیں۔ آج جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ پارٹی کی وجہ سے ہے۔انہوں نے حکومت کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال میں بڑی کامیابیاں حاصل کرنا غیر حقیقی توقع ہے کیونکہ زیادہ تر اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں۔ ان کے مطابق: “جب زیادہ تر اختیارات ایل جی کے پاس ہوں تو حکومت ایک سال میں کیا کر سکتی ہے؟ اس کے باوجود حکومت عوام کی خدمت کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ڈاکٹر فاروق نے مزید کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ نوجوان اور تعلیم یافتہ چہرے، خصوصاً خواتین، فعال سیاست میں آئیں کیونکہ اربن لوکل باڈی اور پنچایت انتخابات قریب ہیں۔ انہوں نے کہا: “اب نوجوانوں کو ذمہ داری سنبھالنی چاہیے۔ ہمارے تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں آگے بڑھیں اور عوام کی خدمت کریں۔ اگلی نسل کو بااختیار بنا کر ہی مستقبل محفوظ کیا جا سکتا ہے۔”این سی صدر نے اتحاد اور نظم و ضبط کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ شیخ محمد عبداللہ کے وژن کو برقرار رکھنے کے لیے لازمی ہے، جو عوامی بااختیاریت اور مساوات پر مبنی تھا۔