ڈاکٹر حنا شفیع بٹ نے جموں میں جموں وکشمیر کے وِی آئی بی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی

جموں//چیئرپرسن جموں و کشمیر کے وِی آئی بی ڈاکٹر حنا شفیع بٹ نے سول سیکرٹریٹ میں جموںوکشمیر کے وِی وِی آئی بی کی کارکردگی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میںسیکرٹری و سی اِی اوجموں و کشمیر کے وِی آئی بی ڈاکٹر جگدیش چندر ، بورڈ کے سینئر اَفسران اور کے وی آئی بی جموں ڈویژن کے ضلعی افسران نے شرکت کی۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ رواں مالی برس کے دوران جموں و کشمیر کے وِی آئی بی کی جانب سے 1,606 یونٹوں کے قیام کے لئے 38.85 کروڑ روپے کی مارجن منی جاری کی گئی ہے جس سے 12,260 اَفراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔میٹنگ کو مزید بتایا گیا کہ رواں مالی برس کے دوران نمٹائے گئے کل معاملات میں سے تقریباً 40 فیصد خواتین کاروباریوں کے ہیں۔اِس موقعہ پرچیئرپرسن جموں وکشمیر کے وِی آئی بی ڈاکٹر حنا شفیع بٹ نے خطاب کرتے ہوئے درخواستوں کے پروسسنگ کو ہموار اور آسان بنانے پر زور دیا تاکہ جموںوکشمیر یوٹی میں اَنٹرپرینیورشپ کو فروغ دیا جاسکے۔اُنہوں نے جموںوکشمیر یوٹی میں دیرپا ترقی کو یقینی بنانے کے لئے خواہشمند کاروباری اَفراد اور بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ضلعی اَفسران کو مشورہ دیا کہ وہ بیداری اور حساسیت کی مہم شروع کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ خواہشمندروزگار پیدا کرنے کے پروگرام جو بورڈ کے ذریعے عملائے جارہے ہیں سے فائدہ اُٹھاسکیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ روزگار پیدا کرنے کے پروگرام جیسے پی ایم ای جی پی اور جے کے آر ای جی پی اَنٹرپرینیورشپ کی حوصلہ افزائی کرنے ، لوگوں کو اَپنا کاروبار شروع کرنے اور معاشی تنوع میں حصہ اَدا کرنے کے لئے بااِختیار بنانے کے لئے وضع کیا گیا ہے ۔اُنہوں نے فائنانسنگ بینکوں میں زیر اِلتوا ٔمعاملات کی بڑی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے ضلعی اَفسران کو مشورہ دیا کہ وہ فالو اَپ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ گائیڈ لائنز میں طے شدہ ٹائم لائنز کے مطابق معاملات پر کارروائی کی جائے۔چیئرپرسن جموںوکشمیر کے وِی آئی بی نے بینکروں اور عمل آوری ایجنسیوں کے درمیان بہتر تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ روزگار پیدا کرنے والے پروگراموں کے جیسے پی ایم اِی جی پی اور جے کے آر ای جی پی کے فوائد ہدف آبادی تک پہنچیں۔