نئی دہلی۔ ایم این این۔مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس اور ٹیکنالوجی؛ارضیاتی سائنسز اور وزیر مملکت برائے پی ایم او، محکمہ جوہری توانائی، محکمہ خلائی، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور پڈوچیری کے لیفٹیننٹ گورنر کے کیلاش ناتھن نے آج صبح یہاں ایک میٹنگ کی جس میں ساحلی صفائی، ساحلی سمندر کے بندوبست سے متعلق مستقل میکانزم، زیر سمندر معدنیات کی تلاش اور گہرے سمندر میں ماہی گیری پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں پائیدار ترقی اور طویل مدتی اقتصادی فوائد کے لیے پڈوچیری کے ساحلی اثاثوں سے فائدہ اٹھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پڈوچیری میں ساحلی کٹاؤ کے بار بار ہونے والے مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا، یہ کہتے ہوئے کہ ‘سوچھ ساگر، سُرکشت ساگر’ مہم جیسی پہلے کی کوششوں نے مثبت تبدیلی لائی ہے، اب ایک مستقل اور منظم نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ساحل کی صفائی اور ساحلی انتظام کے لیے ایک مستقل طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ ارضیاتی سائنسز کی وزارت تمام ضروری رہنمائی فراہم کرے گی اور اسے چلانے کے لیے پڈوچیری کے چیف سکریٹری کے ساتھ تال میل سے کام کرے گی۔‘‘مشرقی ساحلی پٹی کے ساتھ پڈوچیری کے اسٹریٹجک محل وقوع کو اجاگر کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہندوستان کی سمندری معیشت میں اس کے ممکنہ کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ گہرے سمندر کا مشن، گہرے سمندر میں ماہی گیری اور پولی میٹالک نوڈیولس جیسی اہم معدنیات کے لیے سمندرکی تہہ کی تلاش کے نئے امکانات کھولتا ہے۔’’ انہوں نے کہا کہ’’اس طرح کے وسائل عالمی سمندری معیشت میں ہندوستان کی تکنیکی صلاحیتوں اور پوزیشن کو نمایاں طور پر بڑھا سکتے ہیں‘‘۔










