jitandar singh

ڈاکٹر جتندر سنگھ کی پہاڑی علاقوں میں اسٹیل سلیگ سے سڑکوں کی تعمیر کی وکالت

پہاڑی علاقوں میں کام کا موسم مختصر، بارشیں زیادہ اور سڑکوں کو نقصان پہنچنے کے امکانات زیادہ:جتندر سنگھ

سرینگر/ یو این ایس// مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں سڑکوں کی پائیدار تعمیر کے لیے اسٹیل سلیگ پر مبنی ٹیکنالوجی کے استعمال کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمالیائی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار ابھی سست ہے، جسے تیز کرنے کی ضرورت ہے۔یو این ایس کے مطابق وہ ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ اور وشاکھا پٹنم کی نجی کمپنی راموکا گلوبل ایکو ورک پرائیویٹ لمیٹڈ کے درمیان ایکو فیکس نامی تیار شدہ گڑھے بھرنے والے مرکب کی تجارتی پیداوار کے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں اور انجینئرنگ اداروں کو اس ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے لیے مختلف ریاستوں میں ورکشاپس منعقد کی جا رہی ہیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اعلان کیا کہ اگلے ہفتے جموں و کشمیر میں اسٹیل سلیگ ٹیکنالوجی پر دو روزہ ورکشاپ منعقد کی جائے گی، جس کے بعد دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بھی ایسی ورکشاپ ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہاڑی علاقوں میں کام کا موسم مختصر، بارشیں زیادہ اور سڑکوں کو نقصان پہنچنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے یہ ٹیکنالوجی ان خطوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے، مگر بدقسمتی سے زمینی سطح پر اس سے متعلق آگاہی ناکافی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کے تجربات تقریباً دو سال قبل شروع کیے گئے تھے، جن کا آغاز گجرات کے شہر سورت اور شمال مشرقی ریاستوں بشمول اروناچل پردیش میں پائلٹ پروجیکٹس سے ہوا۔ بعد ازاں کرناٹک، اتر پردیش، آسام، گجرات، جھارکھنڈ اور آندھرا پردیش میں بھی اسے مختلف سطحوں پر استعمال کیا گیا۔ تاہم کئی ریاستوں میں اعلیٰ سطح کے انجینئرز تک اس ٹیکنالوجی سے پوری واقفیت نہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آگاہی مہم کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔یو این ایس کے مطابق اس موقع پرڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دے کر کہا کہ عوامی فنڈز سے ہونے والی تحقیق کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایکو فیکس جیسے اختراعی منصوبے اس بات کی مثال ہیں کہ سائنس عام زندگی کے مسائل، جیسے گڑھوں کی وجہ سے ہونے والے حادثات، گاڑیوں کو نقصان اور عوامی مشکلات کو حل کر سکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ اور متعلقہ نجی کمپنی مل کر اسٹیل سلیگ کی پروسیسنگ کا ایک پلانٹ قائم کریں گے جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً دو لاکھ ٹن ہوگی اور اس کی تجارتی پیداوار 2027 کے آخر تک شروع ہونے کی توقع ہے۔ اس منصوبے سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔وزیر موصوف نے کہا کہ اگر اسٹیل سلیگ ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر اپنایا جائے تو خاص طور پر بارشوں اور شدید موسمی حالات سے متاثرہ علاقوں میں مضبوط اور پائیدار سڑکوں کی تعمیر ممکن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے میڈیا اور ریاستی حکومتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسی جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں۔