جموں میں مارچ، واقعہ کی مکمل تحقیقات اور امن و امان کی بحالی کا مطالبہ
سرینگر//یواین ایس / جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے کارکنوں اور رہنماؤں نے جمعرات کو پارٹی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر مبینہ حملے کے خلاف جموں میں احتجاجی مارچ نکالا اور واقعہ کی مکمل تحقیقات کے ساتھ ساتھ ریاست میں امن و امان کی بحالی کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ 88 سالہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بدھ کی رات جموں کے مضافاتی علاقے گریٹر کیلاش میں ایک شادی کی تقریب سے واپسی کے دوران اس وقت بال بال بچ گئے جب ایک مسلح شخص نے مبینہ طور پر ان پر پیچھے سے فائرنگ کر دی۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جس کی شناخت 63 سالہ کمل سنگھ جموال کے طور پر ہوئی ہے، جو جموں کے علاقے پرانی منڈی کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔یو این ایس کے مطابق احتجاج میں شریک سینکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں نے پارٹی پرچم اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ‘‘امن و امان بحال کرو’’ اور ‘‘فائرنگ واقعہ کی تحقیقات کرو’’ جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے پارٹی ہیڈکوارٹر شیرِ کشمیر بھون سے احتجاجی مارچ شروع کیا اور شہر کے مرکز کی طرف بڑھنے لگے۔اس دوران پولیس نے انہیں راغناتھ بازار کے مقام پر روک دیا جس کے نتیجے میں مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان کچھ دیر تک دھکم پیل بھی ہوئی۔ تاہم بعض مظاہرین سٹی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں انہوں نے مختصر دھرنا دیا اور بعد میں منتشر ہو گئے۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اجے سدھوترا نے اس واقعہ کو سیکورٹی کی بڑی کوتاہی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ذاتی سیکورٹی اہلکار بروقت کارروائی نہ کرتے تو یہ واقعہ ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہو سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے جہاں نائب وزیر اعلیٰ اور دیگر سینئر رہنما بھی موجود تھے، مگر وہاں مناسب سیکورٹی انتظامات نظر نہیں آئے۔ ان کے مطابق اگر صحیح طریقے سے تلاشی لی جا رہی ہوتی تو کوئی شخص ہتھیار لے کر تقریب میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر جموں ریجن رتن لال گپتا نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ سیاسی رہنماؤں کی سیکورٹی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فاروق عبداللہ جیسے سینئر رہنما محفوظ نہیں تو عام لوگوں کی سلامتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ادھر پارٹی کی خواتین ونگ کی رہنمابملا لتھرا نے کہا کہ احتجاج کا مقصد حکومت کو یہ پیغام دینا ہے کہ خطے میں امن و امان کو مضبوط بنایا جائے تاکہ لوگ محفوظ ماحول میں زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست میں سیکورٹی اور امن و امان کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔










