سیاسی دباو کے بیچ ایس ڈی اے کا قدم، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور اپوزیشن کی تنقید
سرینگر//سرینگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (SDA) نے ڈاون ٹاون سرینگر کے مختلف علاقوں میں قائم 200 سے زائد دکانوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فہرست تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فہرست اندرونی جانچ کے بعد مرتب کی گئی ہے اور اسے ممکنہ انہدامی کارروائی کا پیش خیمہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اتھارٹی براہِ راست بلڈوزر کارروائی کرے گی یا پہلے نوٹس جاری کیے جائیں گے، کیونکہ حالیہ دنوں میں ایسے اقدامات کے خلاف سیاسی دباو میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ دکانیں شہر خاص کے کئی علاقوں میں واقع ہیں، جن میں نوہٹہ، خانیار، زینہ کدل، صفا کدل، حول، گوجوارہ، عیدگاہ، ریناواری، ملک آنگن، وانیر، صورہ، بچھ پورہ اور ملحقہ مقامات شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے راج بھون انتظامیہ پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ افسران وزراء کو اعتماد میں لیے بغیر بلڈوزر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ عمر نے کہا کہ ان کی حکومت غیر قانونی قبضوں کی حمایت نہیں کرتی لیکن سوال یہ ہے کہ صرف مخصوص افراد اور علاقوں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی جموں اور وسطی کشمیر (گاندربل سمیت) میں انہدامی کارروائیوں پر شفافیت اور یکسانیت کی کمی پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ یہ صورتحال ڈاون ٹاون سرینگر کے تاجروں اور مقامی لوگوں میں بے چینی اور غیر یقینی کو بڑھا رہی ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت انہدامی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔










