معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام، میونخ سیکورٹی کانفرنس سے جے شنکر کا خطاب
نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کل کہا کہ سرحدی معاہدوں کی خلاف ورزی کے بعد چین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات انتہائی مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ جے شنکر نے اس بات پر زور دیا کہ سرحد کی صورت حال تعلقات کی صورت حال کا تعین کرے گی۔وزیر خارجہ نے یہ بات میونخ سیکورٹی کانفرنس (ایم ایس سی) 2022 کے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو چین کے ساتھ مسئلہ ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ 1975 سے 45 سال تک سرحد پر امن تھا، بارڈر مینجمنٹ مستحکم تھی، کسی فوجی کی جان نہیں گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ حالات بدل گئے ہیں کیونکہ ہم نے چین کے ساتھ سرحد یا لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر فوجی دستے تعینات نہ کرنے کے معاہدے کیے تھے لیکن چین نے ان معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ جے شنکر نے کہا کہ قدرتی طور پر سرحدی صورتحال تعلقات کی حیثیت کا تعین کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جون 2020 سے پہلے بھی تعلقات کافی بہتر تھے۔خیال رہے کہ پینگونگ جھیل کے علاقوں میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد مشرقی لداخ میں ہندوستانی اور چینی فوجوں کے درمیان سرحدی تعطل شروع ہو گیا تھا اور دونوں طرف نے آہستہ آہستہ اپنی فوجوں اور ہتھیاروں کی تعیناتی میں اضافہ کر دیا گیا۔ 15 جون 2020 کو وادی گلوان میں پرتشدد تصادم کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں ہندوستان کی صلاحیتوں اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ جے شنکر نے ایم ایس سی میں ہند۔بحرالکاہل پر ایک بحث میں حصہ لیا، جس کا مقصد یوکرین پر نیٹو ممالک اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر وسیع بات چیت کرنی ہے۔ یہاں جے شنکر نے دیگر وزرائے خارجہ اور کانفرنس میں شریک دیگر مندوبین کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ جے شنکر نے اپنے دورہ جرمنی کے دوران یورپ، ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں کے وزرا کے ساتھ بھی کئی ملاقاتیں کیں۔










