چیف سیکرٹری کی کاروبارکرنے میں آسانی کو فروغ دینے کیلئے اِصلاحات میں تیزی لانے پر زور

سری نگر //چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں ملک بھر میں کاروبار کرنے میں آسانی (اِی او ڈِی بی) کو یقینی بنانے کے لئے مرکزی کابینہ سیکرٹری کی سربراہی میں قومی ٹاسک فورس کی سفارش کردہ تعمیل میں کمی اور ڈِی ریگولیشن اِصلاحات کی عمل آوری کی صورتحال کا جائزہ لیا۔میٹنگ میںکمشنر سیکرٹری مکانات و شہری ترقی محکمہ ۔ کمشنر سیکرٹری جنگلات، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت ،کمشنر سیکرٹری دیہی ترقی، سیکرٹری قانون اورڈائریکٹر اِنڈسٹریز اینڈ کامرس جموں سمیت کئی دیگر اَفسران نے شرکت کی۔ دورانِ میٹنگ چیف سیکرٹری نے اہم اصلاحاتی شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ ٹاسک فورس کے طے کردہ ایجنڈے پر وقت کی پابندی اور مکمل تعمیل کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے زور دیا کہ اس عمل میں کسی قسم کی کوتاہی یا تاخیر کی گنجائش نہیں ہے اور تمام اِنتظامی سربراہان کو عمل درآمد کی باقاعدہ نگرانی کرنی چاہیے تاکہ اِصلاحات مؤثر طریقے سے عملایاجا سکیں۔اَتل ڈولو نے تمام ترجیحی شعبوں میں کمپلائنس کا ثبوت فوری طور پر اَپ لوڈ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ اِصلاحات یہاں کے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لئے نہایت اہم ہیں۔اُنہوں نے متعلقہ ضوابط میں تبدیلی کے عمل کو ’’مشن موڈ‘‘ میں عملانے پر زور دیا اور محکمہ صنعت وحرفت کو ہدایت دی کہ وہ تمام دستاویزات اور رِپورٹنگ کی ضروریات کو فوری طور پر مکمل کرنے کے لئے محکموں کی مدد کرکے انہیں آسانی سے عملائیں۔
کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وِکرم جیت سنگھ نے میٹنگ کو جانکاری دی کہ مختلف محکموں سے متعلقہ 434 اصلاحاتی نکات پہلے ہی کامیابی سے نافذ کئے جا چکے ہیں۔ تاہم، کچھ نکات کو ٹاسک فورس نے مزید بہتری کی تجویز کے ساتھ واپس کیا ہے۔اُنہوں نے یقین دِلایا کہ بطور نوڈل محکمہ صنعت و حرفت باقی نکات پر بھی متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر جلد عمل درآمد کو یقینی بنائے گا۔ڈائریکٹر صنعت و حرفت جموں ارون کمار منہاس نے فوری کارروائی کے لئے متعدد کلیدی اِصلاحاتی شعبوں کا خاکہ پیش کیا ۔ان میں ماسٹر پلانوں میںزوننگ قوانین کو اَپنانا، زمین کے اِستعمال کی تبدیلی ( سی ایل یو) کے عمل کو آسان اور ڈیجیٹائز کرنا،دیہی علاقوں میں صنعتی اِکائیوں کے لئے کم از کم سڑک کی چوڑائی کے اصولوں میں درست کرنا شامل ہین۔ اِصلاحاتی نکات میں جو معاملات زیر بحث آئے ان میں صنعتی و تجارتی پلاٹوں میں زمین کے نقصان کو کم کرنے کے لئے عمارتوں کے ضوابط میں ترامیم،خطرناک شعبوں میں خواتین کے کام کرنے پر عائد پابندیوں کا خاتمہ،فیکٹری قوانین کے تحت کام کے اوقات کے جائزے،تجارتی اداروں پر کاروباری اوقات کی پابندیوں کا خاتمہ،تھرڈ پارٹی ایجنسیوں کے ذریعے فائر این او سی کی سہولیت کی فراہمی شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ یہ تمام اِصلاحات یونین ٹیریٹری میں ایک مضبوط اور کاروبار دوستانہ صنعتی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لئے تیار ہیں۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ ’بزنس ریفارمز ایکشن پلان (بی آر اے پی)‘ جسے ڈیپارٹمنٹ فار پروموشن آف اِنڈسٹری اینڈ اِنٹرنل ٹریڈ (ڈِی پی آئی آئی ٹی) نے شروع کیا ہے،مرکزی حکومت کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کا مقصد ریگولیٹری فریم ورک کو آسان بنانا اور ملک میں کاروبار کے لئے سازگار ماحول کو فروغ دینا ہے۔