چیف سیکرٹری نے کلاکیندر میں شاردا مصوری کی تین روزہ نمائش کا اِفتتاح کیا

جموں//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جی آر سنتوش گیلری کلا کیندر جموں میں ممتاز مصورسبھاش سی رزدان کی شاردا خطاطی مصوری کی تین روزہ نمائش کا اِفتتاح کیا۔اِفتتاحی تقریب میں پرنسپل سیکرٹری کلچر برج موہن شرما،پدم شری راجندر تکو،ڈائریکٹر آرکائیوز، آرکیالوجی و میوزیمز ، سیکرٹری کے کے سدھا، سیکرٹری کلا کیندر ڈاکٹر جاوید راہیؔ، معروف آرٹ مورِّخ ڈاکٹرللت گپتا، مشہور فنکار گوکل دمبی اور نامور مصنف پی این کول نے شرکت کی۔ اِس تقریب کا اہتمام کلا کیندر جموں نے کیا تھا۔اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش نہایت منفرد ہے کیوں کہ یہ شاردایعنی قدیم کشمیری رسم الخط جس کی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے ،کو اُجاگر کرتی ہے۔ اُنہوں نے اِس رسم الخط کی بحالی اور تحفظ کی ضرورت پر زور دیا جو کشمیر کی تہذیبی شناخت اور اس کے ثقافتی ورثے سے گہرا ناتا رکھتی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کلا کیندر جموں و کشمیر میں آرٹ کے ایک اہم مرکز کے طور پربصری اور پرفارمنگ آرٹس کے شعبوں میں مقامی فن کاروں کو ضروری مدد اور سہولیات فراہم کرتا رہتا ہے۔اَتل ڈولو نے یہ بھی واضح کیا کہ وزیر اعظم کی جانب سے شروع کی گئی ’گیان بھارتم سکیم‘ ثقافتی ورثے کے تحفظ، دیکھ ریکھ اور دستاویزی شکل دینے میں اہم کردار اَدا کرے گی جو آئندہ نسلوں کے لئے اِس علم کے تسلسل کو یقینی بنائے گی۔اُنہوں نے سبھاش سی رازدان کے کام کی تعریف کی اور عوام سے کہا کہ وہ اِس نایاب فن کو دیکھنے کے لئے نمائش کا ضرور دورہ کریں۔پرنسپل سیکرٹری کلچر برج موہن شرما نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جموںوکشمیر اکیڈیمی آف آرٹ ، کلچر اینڈ لنگویجز نے حال ہی میں یونیورسٹی کشمیر کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت شاردا، اردو اور دیوناگری رسم الخط میں خطاطی کے ڈپلوما کورس کا آغاز کیا جائے گا تاکہ خطاطی کی روایات کو فروغ اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ نایاب فنون کی ترویج میں مصروف ہے اور اس نمائش کی کاوشوں کو سراہا۔اِس سے قبل اَپنے اِستقبالیہ خطاب میں ڈاکٹر جاوید راہیؔ نے کہ کہ نمائش میں سبھاش سی رازدان کے 50 فن پارے پیش کئے گئے ہیں اور تقریب کا مقصد قدیم شاردا رسم الخط کی نمائش کرنا ہے جسے فنی طور پر نایاب خطاطی مصوری کے ذریعے پیش کیا گیا ہے جو بصری اور اِظہار دونوں لحاظ سے غیر معمولی ہیں۔گوکل ڈمبی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش صدیوں سے محفوظ ثقافتی اَقدار کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہے ۔ڈاکٹر للت گپتا نے رازدان کے فن کو روحانیت اور شیو اِزم میں جڑا ہوا، منفرد اور گہرا قرار دیا۔ پدم شری راجندر تِکونے کہا کہ یہ فن پارے کشمیری شیواِزم سے متاثر آرٹ کی نئی جہتیں کھولتے ہیں اور ان کی مناسب دستاویزات کی ضرورت پر زور دیا۔تقریب کے اِختتام پر سبھاش سی راز دان نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔