ہر ڈِسکام کیلئے 1000 تا2000 آرٹی ایس تنصیبات کا ہدف مقرر
سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں ’’پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا‘‘ کی عمل آوری کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں گھریلو سطح پر صاف توانائی کو فروغ دینے اور بجلی کے اخراجات میں کمی کے مقصد سے اس فلیگ شپ سکیم کے تحت روف ٹاپ سولر تنصیبات کی پیش رفت پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری پی ڈِی ڈِی اور سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ پرنسپل سیکرٹری فائنانس، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت،ضلع ترقیاتی کمشنروں، جے پی ڈِی سی ایل اورکے پی ڈِی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹران، سی اِی او جے اے کے اِی ڈی اے ، جے پی ڈِی سی ایل اورکے پی ڈِی سی ایل کے چیف اِنجینئروں اور این ایچ پی سی سمیت دیگرعمل آوری ایجنسیوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے سکیم کی موجودہ عمل آوری کا جائزہ لیتے ہوئے تنصیبات کی سست رفتاری پر تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے اس میں فوری تیزی لانے کی ہدایت دی ۔اُنہوں نے جے پی ڈِی سی ایل اور کے پی ڈِی سی ایل کو بالترتیب ہر ماہ کم از کم 2000 اور 1000 تنصیبات مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے ہدایت دی کہ جو سسٹمز پہلے ہی نصب کئے جا چکے ہیں، انہیں فوری طور پر شروع کیا جائے تاکہ اِستفادہ کنندگان جلد از جلد فائدہ اُٹھا سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ نصب شدہ یونٹوں کو فعال نہ کرنا سکیم کے مقصد کو ناکام بناتا ہے۔چیف سیکرٹری نے پی ڈِی ڈِی کو عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لئے جارحانہ بیداری اِنفارمیشن ، ایجوکیشن اینڈ کمیونی کیشن ( آئی اِی سی )مہم شروع کرنے کی تاکید کی۔ اُنہوں نے زور دیا کہ رجسٹرڈ درخواست دہندگان کو متحرک کرنے کے لئے مربوط کوششیں کی جائیں تاکہ وہ اس فائدہ مند سکیم کے طویل المدتی فوائد سے آگاہ ہوں۔اِس سے قبل پرنسپل سیکرٹری پی ڈِی ڈِی راجیش پرساد نے سکیم کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کا روڈمیپ پیش کیا۔ اُنہوں نے عمل در آمد میں اِبتدائی تاخیر کو تسلیم کیا لیکن یقینی دِلایا کہ اَب بہتر پیش رفت ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے انتظار کے وقت کو کم کرنے اور رجسٹرڈ صارفین کے لئے تنصیبات تیز کرنے کے لئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری دی۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ مرکزی حکومت نے 1 کروڑ گھریلو صارفین کا قومی ہدف مقرر کیا ہے تاہم جموں و کشمیر نے رضاکارانہ طور پر 83,500 گھریلو صارفین کو 31 ؍مارچ 2027ء تک مستفید کرنے کا ہدف رکھا ہے جس میں جے پی ڈِی سی ایل کے لئے 39,500 اور کے پی ڈِی سی ایل کے لئے 44,000 صارفین شامل ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ سکیم کی نگرانی روزانہ، پندرہ روزہ اور ماہانہ بنیادوں پر ضلع، ڈویژن اور یو ٹی سطح پر کی جا رہی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ 24 ؍جولائی 2025 ء تک کی کارکردگی کے مطابق اَب تک 8,046 روف ٹاپ سولر تنصیبات مکمل ہو چکی ہیں جن کی مجموعی استعداد 30.07 میگاواٹ ہے۔
سکیم کے تحت صارفین کو دی گئی سبسڈی میں مرکزی حکومت کی طرف سے 50.78 کروڑ روپے اور یو ٹی حکومت کی طرف سے 2 کروڑ روپے شامل ہیں۔ یو ٹی بھر سے 64,080 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن کی تنصیبات کے لئے 582 وینڈرز دستیاب ہیں۔بینکوں کی طرف سے پی ایم سوریہ گھر سکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی کے بارے میں بتایا گیا کہ جے پی ڈِی سی ایل صارفین کے 3,293 معاملات میں 5690.15 لاکھ روپے جبکہ کے پی ڈِی سی ایل صارفین کے 2,441 معاملات میں 4653.54 لاکھ روپے قرض جاری کئے گئے۔آئی اِی سی مہم کے ذریعے عوامی رسائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ جے پی ڈِی سی ایل نے 34.87 لاکھ صارفین کوبلک ایس ایم ایس بھیج کر آگاہ کیا۔ جے پی ڈِی سی ایل نے 525 جبکہ کے پی ڈِی سی ایل نے 410 بیداری کیمپ منعقد کئے ۔ سکیم کے بارے میں ٹی وی، ریڈیو، سوشل میڈیا، پرنٹ و آؤٹ ڈور پروموشن کے ذریعے بھی بڑے پیمانے پر بیداری پید ا کی گئی۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ شکایات کے ازالے کے لئے خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کئے گئے ہیں جن کے ذریعے جے پی ڈِی سی ایل کے 449 صارفین اور 429 وینڈرز جبکہ کے پی ڈِی سی ایل کے 406 صارفین کی شکایات کا اَزالہ کیا گیا۔ سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال چودھری نے سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن کے بارے میں بتایا کہ 22,494 سرکاری عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے 12,994 عمارتیں کیپکس موڈ کے تحت اور 9,500 عمارتیںآر اِی ایس سی اوموڈ (این ایچ پی سی اور جیکیڈا کے ذریعے) کے تحت شامل ہیں۔سیکرٹری نے اِس سکیم کی تازہ ترین صورتحال بتاتے ہوئے کہا کہ21؍ جولائی 2025 ء تک کی صورتحال کے مطابق 5,331 عمارتوں پر سولر پاور سسٹم نصب کئے گئے ہیں جن کی مشترکہ استعداد 48.84 میگاواٹ ہے۔ کل 70 میگاواٹ کے ہدف میں سے 54 میگاواٹ کی صلاحیت وینڈرز کو سروے کے لئے مختص کی گئی ہے۔سی ای او جیکیڈاپی این دھر نے بتایا کہ مزید 3,809 عمارتوں کے لئے 37.6 میگاواٹ کے کام کے آرڈر جاری ہو چکے ہیں جن میں سے 18 میگاواٹ کا سامان پہنچ چکا ہے اور 602 مقامات پر 9.4 میگاواٹ کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے۔ مزید 685 مقامات پر کام جاری ہے۔چیف سیکرٹری نے سکیم کی عمل آوری کی رفتار کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور متعلقہ محکموں اور وینڈرز کو ہدایت دی کہ رکاوٹیں دور کر کے موجودہ تنصیبات کو بروقت مکمل کیا جائے تاکہ توانائی کی دیرپائی کے اہداف حاصل کئے جا سکیں۔










