سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں محکمہ کان کنی کے کام کاج کا تفصیلی جائزہ لیا جس میں اِنٹگریٹیڈ مائننگ سرویلنس سسٹم ( آئی ایم ایس ایس ) کی عمل آوری اور کارکردگی پرخصوصی توجہ دی گئی۔ یہ ٹیکنالوجی پر مبنی پلیٹ فارم ہے جو جموںوکشمیر میں کان کنی کے کاموں کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری کان کنی، چیئرپرسن پولیوشن کنٹرول کمیٹی، ڈائریکٹر جیالوجی و مائننگ اور دیگر متعلقہ محکموں کے سینئراَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے میٹنگ میں آئی ایم ایس ایس کے مؤثر اِستعمال پر زور دیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور غیر قانونی کان کنی کی سرگرمیوں پر روک لگائی جا سکے۔اُنہوں نے ہدایت دی کہ آئی ایم ایس ایس سے جو بھی الرٹ یا اشارہ موصول ہو، اس پر فوری اور ٹھوس کارروائی کی جائے۔ اُنہوں نے ہر معاملے میں جوابدہی طے کرنے اور مجرم افسران یا خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاررِوائی کرنے پر زور دیا۔چیف سیکرٹری نے مزید ہدایت دی کہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کو آئی ایم ایس ایس پلیٹ فارم تک رَسائی دی جائے تاکہ وہ اَپنے علاقوں میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف فوری اور مؤثر کاررِوائی کر سکیں۔اُنہوں نے محکمہ کان کنی پر بھی زور دیا کہ محکمہ کان کنی فیلڈ سطح پر کی گئی کارروائیوں کی باقاعدہ نگرانی کرے اور چیف سیکرٹری کے دفتر کو وقتاً فوقتاً کارکردگی کی رپورٹ فراہم کرے۔اُنہوں نے بی آئی ایس اے جی ۔ این ٹیم کو آئی ایم ایس ایس تیار کرنے پر سراہا اور دوران میٹنگ پیش کی گئی لائیو ڈیمونسٹریشن کی سراہنا کی جس میں غیر قانونی کان کنی کی نشاندہی، مقام کا تعین اور کارروائی کی صلاحیت کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔چیف سیکرٹری نے معدنی بلاکوں کی نشاندہی اور نیلامی کے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے پولیوشن کنٹرول کمیٹی سے کہا کہ تمام مطلوبہ منظوریوں اور تقاضوں کی مکمل چیک لسٹ فراہم کریں تاکہ تمام ضروری رسمی کارروائیوں کو ایک ہی بار میں مکمل کیا جا سکے بجائے اس کے کہ اکثر غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے۔پرنسپل سیکرٹری کان کنی انیل کما ر سنگھ نے محکمہ کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اب تک آئی ایم ایس ایس کے ذریعے 114 الرٹس جاری کئے گئے ہیںجن میں مشتبہ غیر قانونی کان کنی کی جگہوں کے جغرافیائی کوآرڈینیٹس اور سیٹلائٹ امیجز شامل ہیں۔ ان میں سے 29 جگہوں کا موقع پر جا کر جائزہ لیا گیا جن میں سے 16 مقامات پر غیر قانونی کان کنی کی تصدیق ہوئی۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ تمام الرٹس ضلع ترقیاتی کمشنروں، سینئر سپراِنٹنڈنٹس آف پولیس (ایس ایس پیز) اور متعلقہ ضلع کان کنی افسران ( ڈی ایم اوز) کے ساتھ فوراً شیئر کئے جاتے ہیں تاکہ فوری کارروائی کی جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ آئی ایم ایس ایس پورٹل کو ای۔چالان اور ای۔مارکیٹ پلیٹ فارموںسے منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ اس کی کارکردگی مزید بہتر ہو۔میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ محکمہ ویب پر مبنی وہیکل ٹریکنگ اور آن سپاٹ ای۔چالاننگ کی سہولیتوں کو بھی اس نظام میں شامل کر رہا ہے تاکہ نگرانی اور عمل درآمد کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت 48 چونے کے پتھربلاکوں اور 235 چھوٹے معدنی بلاک موجود ہیںجن میں سے 207 کو لیز پر دیا جا چکا ہے اور 98 فعال ہیںجس سے تقریباً 220 کروڑ روپے کی متوقع آمدنی حاصل ہوگی۔چیف سیکرٹری نے لیتھیئم،سیفائر، لیگنائٹ، گرینائٹ، ڈولومائٹ، گریفائٹ اور جپسم سمیت اہم معدنی وسائل کی جاری تلاش کا بھی جائزہ لیا۔










