چیف سیکرٹری نے محکمہ جیالوجی و مائننگ کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے محکمہ جیالوجی و مائننگ کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں کا جائزہ لیا

محکمے نے رواں مالی برس کیلئے 500 کروڑ روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا

سری نگر// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں محکمہ جیالوجی و مائننگ کی موجودہ کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری مائننگ، ڈائریکٹر مائننگ، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے منرلز اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ چیف سیکرٹری نے غیر قانونی کان کنی کی روکتھام کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے اِستعمال پر زور دیا۔ اُنہوں نے جی پی ایس ٹریکنگ، آر ایف آئی ڈِی ٹیگنگ، جیو فینسنگ اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ سسٹمز کی مدد سے خلاف ورزیوں کی فوری شناخت کرنے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے کہا کہ عادی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے لئے مؤثر روکتھام ضروری ہے تاکہ کان کنی کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنایا جا سکے۔اُنہوںنے تمام غیر فعال معدنی بلاکوں کے لئے لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئیز) جلد جاری کرنے اورمرکزی حکومت کی وزارتِ مائنز کے ساتھ قریبی روابط قائم کرنے پر زور دیا تاکہ نئے دریافت شدہ بلاکوں کا جلد از جلد سروے اور نیلامی ممکن ہو سکے۔چیف سیکرٹری نے کان کنی کے شعبے میں اِصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور’’ڈِسٹرکٹ منرل فاؤنڈیشن ٹرسٹ (ڈِی ایم ایف ٹی )‘‘ کے قواعد جلد مرتب کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے چھوٹے معدنیات کی قیمتوں میں ناجائز اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو تعمیری مواد کی منصفانہ قیمت اور آسان فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اُنہوں نے اس شعبے کو ٹیکنالوجی پر مبنی، شفاف، شہری دوست اور جوابدہ بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔پرنسپل سیکرٹری مائننگ انیل کمار سنگھ نے میٹنگ کو جانکاری دی کہ جموں و کشمیر میں کل 233 معدنی بلاکس میں سے 106 فعال ہیں جبکہ 127 غیر فعال ہیں۔ ان میں سے 60 بلاکس کو 31 ؍اکتوبر 2025 ء تک فعال بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ نے رواں مالی برس 500 کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا ہے جو گزشتہ مالی برس کے 150 کروڑ روپے سے کہیں زیادہ ہے۔ اِس میں 260 کروڑ روپے بڑے معدنیات سے، 220 کروڑ چھوٹے معدنیات سے اور 100 کروڑ دیگر ذرائع سے حاصل کئے جانے کی توقع ہے۔ میٹنگ کو اہم معدنیات کے بارے میں بتایا کہ48 چونے کے بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں 23 غیر فعال کان کنی لیز، سات متوقع 10اے 2 (بی) کیسز اور 3 نئے بلاکس شامل ہیں۔ ان میں سے پانچ بلاکس جن میں 75.597 ملین ٹن کے ذخائر موجود ہیں، کی نیلامی 31 ؍اکتوبر 2025 ء تک کی جائے گی جن سے 260.00 کروڑ روپے کی متوقع آمدنی ہوگی۔معمولی معدنیات ( آر بی ایم) کے بارے میں یہ انکشاف ہوا کہ محکمہ کا مقصد60 غیر فعال بلاکس کو 31؍ اکتوبر 2025 ء تک فعال بنایا جائے گا جس سے 53 کروڑ روپے کی آمدنی متوقع ہے۔ آئندہ ایک ماہ میں آٹھ لیٹر آف انٹینٹ ( ایل او آئیز) جاری کئے جائیں گے جبکہ 19 بلاکس اِی ۔ آکشن کے لئے تیار ہیں۔مزید برآں،سنگل وِنڈو سسٹم کے تحت 73 بلاکس اِی۔آکشن کے لئے تیار ہیں جن کے لئے متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنروں سے این او سی 18 ؍اگست 2025 ء تک حاصل کی جائے گی۔ ان سے 100 کروڑ روپے کی آمدنی کی اُمید ہے۔جہاں تک رِیاسی میں لیتھیم کے ذخائر کا تعلق ہے تو یہ انکشاف ہوا کہ جی ایس آئی کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ریاسی میں 3 مربع کلومیٹر کے رقبے پر 5.9 ملین ٹن لیتھیم موجود ہے۔ تفصیلی سٹیڈی31؍ دسمبر 2025ء تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔دیگر معدنی وسائل جن پر اِس میٹنگ میں تبادلہ خیال کیا گیا ان میں نیلم(کشتواڑ)، لیگنائٹ (کپواڑہ)، چونا (اننت ناگ)، گرینائٹ (ڈوڈہ و گاندربل)، کوارٹزائٹ (کشتواڑ)، ڈولومائٹ (راجوری) اور گریفائٹ (کپواڑہ) شامل ہیں جن کی تلاش کے لئے تفصیلی ٹائم لائن میٹنگ میں پیش کی گئی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ غیر قانونی کان کنی کی روکتھام کے لئے’’ مائننگ سرویلنس سسٹم‘‘ کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ یہ نظام سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں کی شناخت کرتا ہے۔ دوسرا مرحلہ جاری ہے جس میں ریئل ٹائم وہیکل ٹریکنگ، واہن پورٹل، وی بریجز اور ای۔چالان سسٹم کو شامل کیا جائے گا۔جموں اور سانبہ اضلاع میںپوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشین کے ذریعے موقع پر جرمانے عائد کئے جا رہے ہیں اور یہ نظام 15 ؍جولائی 2025 ء تک پورے جموں و کشمیر میںعملایا جائے گا۔ جے اینڈ کے منرلز لمیٹڈ (جے کے ایم ایل) کے کام کے حوالے سے، میٹنگ کو بتایا گیا کہ فی الحال پرلنکا رام بن میں جپسم مائن اور کالاکوٹ، راجوری وریاسی میں کوئلے کی کانیں فعال ہیں۔ دیگر بلاکوں اور لائم سٹون کو بھی فعال بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ محکمہ پر واجب الادا مالی واجبات پر بھی غوروخوض کیا گیا۔میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کان کنی کے شعبے کو دیرپا، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عوام دوست بنانے کے لئے تمام اَقدامات کئے جائیں گے تاکہ ریاستی آمدنی میں اضافہ ہو اور ماحولیات کو نقصان نہ پہنچے۔