جموں//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے حکومت کے فلاحی پروگراموں کے بارے میں مفید معلومات کی فراہمی کے ذریعے یو ٹی میں لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے محکمہ اطلاعات کے کام کاج کا جائیزہ لیا جس میں محکمہ اطلاعات کے پرنسپل سیکرٹری ، ڈائریکٹر انفارمیشن ، جوائینٹ ڈائریکٹر انفارمیشن جموں اور محکمہ کے دیگر سینئر افسران موجود تھے ۔ ڈاکٹر مہتا نے محکمہ سے کہا کہ وہ مختلف عوامی فلاح و بہبود کے پروگراموں کو موثر طریقے سے پھیلانے کیلئے مواد کے معیار اور اس کی ترسیل دونوں کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ایسی زبان اور شکل میں مواد تخلیق کرنے کی ضرورت ہے جس سے عوامی فلاح و بہبود کے پروگراموں کی فوری اور آسانی سے لوگوں تک رسائی ممکن ہو ‘‘۔ جعلی یا گمراہ کُن خبروں کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے محکمہ سے کہا کہ وہ حقیقی وقت کی بنیاد پر فرضی خبروں کو رد کرنے کیلئے ایک طریقہ کار قائم کرے ۔ پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل نے بتایا کہ محکمہ میں شکایات کے ازالے کا نظام قائم کیا گیا ہے تا کہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ میڈیا میں آنے والی شکایات کا محکمانہ جواب مناسب وقت کے اندر انجام دیا جائے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں شروع کی گئی فلم پالیسی کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے اور یہ فلم سازوں کے ساتھ بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے ۔ قبل ازیں ڈائریکٹر انفارمیشن نے محکمہ کے کام کاج پر ایک مختصر پرذنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ نئے دور کے چینلجوں /غیر روائتی میڈیا جیسے ایف ایم چینلز، سوشل میڈیا وغیرہ سے نمٹنے کیلئے انسانی اور صلاحیت کے مسائل کو مضبوط بنا رہا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ نے جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات جیسے گنیز ورلڈ ریکارڈ ہولڈر سائیکلسٹ عادل تیلی ، ٹوکیو اولمپک سلور میڈلسٹ میرا بھائی چانو کے کوچ وجے شرما وغیرہ پر مختلف فیچر اسٹوریز چلائی ہیں جنہوں نے مختلف شعبوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ انہوں نے بیک ٹو ولیج اور میرا قصبہ میرا غرور جیسے پروگراموں کو کامیابی سے کوور کرنے میں محکمہ کے کردار پر بھی روشنی ڈالی ۔ چیف سیکرٹری نے محکمہ سے کہا کہ وہ فوری طور پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور تیزی سے ترقی پذیر میڈیا سے بہتر طور پر نمٹنے کیلئے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو از سر نو ترتیب دے ۔ انہوں نے محکمہ کو مشورہ دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ سیکرٹریٹ میں کم از کم دس مواد تخلیق کرنے والے /وسائل کے اہلکار دستیاب ہوں اور ان میں سے ایک مناسب تعداد کو یو ٹی کے تمام اضلاع کے دفاتر میں رکھا جائے ۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ ’’ آپ کی زمین آپ کی نگرانی ‘‘ ، جنتا کی بھاگیہ داری جیسی اسکیموں نے یو ٹی میں لوگوں کو واقعی بااختیار بنایا ہے لیکن زیادہ سے زیادہ لوگوںکو ان اسکیموں کو اپنی بھلائی کیلئے استعمال کرنا چاہئیے اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب وہ ان کے بارے میں پوری جانکاری رکھتے ہوں ۔ انہوں نے کہا ’’ جموں و کشمیر نے سال 2020-21 کے دوران گُڈ گورننس میں 3.7 فیصد کی بہتری کی ہے اور نیتی آیوگ کے جائیزے میں جموں و کشمیر کی جی ڈی پی کبھی بھی کووڈ بحران کے عروج پر بھی منفی نہیں گری ۔ ڈاکٹر مہتا نے محکمہ سے کہا کہ وہ میڈیا میں روزانہ کی بنیاد پر امپیکٹ فیچر /حقیقی زندگی کی خبریں بنائیں اور چلائیں جس میں حکومت کی طرف سے چلائی گئی فلاحی اسکیموں /مہم کے مثبت پہلو کو اجاگر کیا جائے ۔ چیف سیکرٹری نے محکمہ سے کہا کہ وہ تمام محکموں کے ساتھ مشاورت کے ساتھ شکایات کے ازالے کے نظام کو مضبوط بنائے تا کہ محکموں کی شکایات کے جواب کو میڈیا میں حقیقی وقت پر پہنچایا جا سکے ۔ ڈاکٹر مہتا نے محکمہ کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ حکومت کے جاری مختلف فلاحی پروگراموں کے بارے میں اپنے فیلڈ کے عہدیداروں سے رائے حاصل کرنے کا ایک نظام قائم کرے تا کہ ان پروگراموں کی افادیت اور نفاذ کو بہتر بنایا جا سکے ۔










