چیف سیکرٹری نے زمینی ریکارڈ کی ڈیجٹائزیشن اور جدید کاری کے جاری منصوبے کی پیش رفت کا جائیزہ لیا

شفافیت اور زمینی گورننس میں کارکردگی کو یقینی بنانے کیلئے اس مشق کو بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا

سرینگر//چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں زمینی ریکارڈز کی ڈیجٹائیزیشن اور جدید کاری کے جاری منصوبے کی پیش رفت کا جائیزہ لیا اور زور دیا کہ اگرچہ یہ مشق پیچیدہ اور مشکل ہے ، لیکن یہ شفافیت ، زمین کی ملکیت کے درست ریکارڈز ، موثر منصوبہ بندی اور پورے یو ٹی میں زرعی طریقوں کو بہتر بنانے کیلئے ضروری ہے ۔ اجلاس میں سیکرٹری ریونیو ، ڈائریکٹر سروے اینڈ لینڈ ریکارڈز ، انسپکٹر جنرل رجسٹریشن ، سی ای او اسٹیٹ ہیلتھ ایجنسی اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی جبکہ تمام ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی ۔ چیف سیکرٹری نے ڈیجٹائیزیشن کے عمل کو انتہائی درستگی کے ساتھ مکمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ زمین سے متعلق تنازعات کی ایک بڑی تعداد ریکارڈز میں تضادات کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ پیش رفت کی باقاعدہ نگرانی اور جائیزہ لیں اور اگلے چھ سے ساتھ ماہ کے اندر جدید کاری کے عمل کو ہر لحاظ سے مکمل کریں ۔ موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائیزہ لیتے ہوئے مسٹر ڈولو نے ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈز کو ہدایت دی کہ وہ تمام ڈپٹی کمشنرز کیلئے بعض دیہاتوں میں غائب مساوی ( کیڈسٹرل نقشے ) کی دوبارہ تخلیق کے طریقہ کار کے بارے میں واضح رہنما اصول جاری کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اضلاع کو ضروری تعاون فراہم کیا جائے تا کہ اس عمل کو دو ماہ کے اندر مکمل کیا جا سکے تا کہ اس کے بعد باقی دیہاتوں کیلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے ۔
چیف سیکرٹری نے لینڈ ریکارڈز ماڈرنائیزیشن پروگرام کے اہم اجزاء کے تحت پیش رفت کا جائیزہ لیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری ریونیو نے اجلاس کو لینڈ ریکارڈز کی ڈیجٹائیزیشن سے متعلق پیش رفت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا ۔ چیف سیکرٹری نے زمینی گورننس میں بنیادی تبدیلی لانے کے حکومتی عزم کو دہراتے ہوئے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈز ماڈر نائیزیشن پروگرام ( ڈی ایل آر ایم پی ) کے تحت تمام ماڈیولز کے ہموار انضمام کو یقینی بنائیں تا کہ عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری اور زمینی تنازعات میں کمی کی جا سکے ۔