جموں//شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی جموں نے ریڈیسن بلو ہوٹل میں کمپٹے ٹیو نس امپروممنٹ آف ایگر ی کلچرل اینڈ لائیڈ سیکٹرز پروجیکٹ(جے کے سی آئی پی)کے تحت ایک تاریخی اِنڈسٹری۔سٹارٹ اپ رسائی پروگرام کا اِنعقاد کیا۔ اِس پروگرام میں سینئر سرکاری افسران، صنعتی ماہرین، سٹارٹ اپس، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز)، ماہرینِ تعلیم اور طلبأ کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تاکہ جموں و کشمیر یوٹی میں صنعت، اکیڈمی اور سٹارٹ اَپ کے درمیان روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔ چیف سیکرٹری اتل ڈولو نے بطورِ مہمانِ خصوصی تقریب کا اِفتتاح کیا۔ اِس موقعہ پر وائس چانسلر سکاسٹ(ایس کے یو اے ایس ٹی) جموں پروفیسر بی این ترپاٹھی، مشن ڈائریکٹر جے کے سی آئی پی/ایچ اے ڈی پی سندیپ کمار ، یونیورسٹی کے قانونی افسران، آئی آئی آئی ایم جموں، آئی آئی ٹی جموں ، آئی آئی ایم جموں سمیت مختلف اِداروں کے نمائندے ،صنعتی ماہرین، یو ٹی ایل بی سی، جموںوکشمیر بینک، ڈِسٹرکٹ اِنڈسٹریز سینٹر (ڈِی آئی سی) جموں، سٹارٹ اپس اور ایف پی اوز کے نمائندگان موجود تھے۔چیف سیکرٹری نے اِس بات پر زور دیا کہ ایف پی اوز کو محض پیداوار کی اجتماعی فروخت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں پروسسنگ، پیکیجنگ، برانڈنگ اور ویلیو ایڈیشن پر مبنی کاروباری ماڈلز اَپنانے چاہئیں تاکہ کسانوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اِضافہ ممکن ہو سکے۔اُنہوں نے سٹارٹ اپس کی کامیابی کے لئے چار سیز یعنی کلچر، کپسٹی ی بلڈنگ، کمرشلائزیشن اور کنکٹویٹی کی وضاحت کی۔ اُنہوں نے زرعی شعبے میں کاروبار میں آسانی کو فروغ دینے، سٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مستحکم بنانے اور مضبوط بینکنگ شراکت داری کے ذریعے بروقت اور سستے قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔اَتل ڈولونے سکاسٹ جموں اور مشن ڈائریکٹوریٹ جے کے سی آئی پی کے فعال اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اون، ٹراؤٹ فشریز، فلوری کلچر اور میڈیسنل و ارومیٹک پلانٹس (ایم اے پیز) کا ایک بڑا پروڈیوسر ہونے کے باوجود پروسیسنگ محدود ہے اور اِس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ یہ رسائی پروگرام ایک دیرپا شراکت داری ماڈل میں تبدیل ہوگا اور جے کے سی آئی پی، ایچ اے ڈی پی اور مشن یووا جیسے اقدامات کے تحت جموں و کشمیر کو زرعی کاروباریت کا ایک متحرک مرکز بنانے میں معاون ثابت ہوگا جو وِکست بھارت کے ویژن میں بھی اہم کردار اَدا کرے گا۔وائس چانسلر پروفیسر بی این ترپاٹھی نے تفصیل سے بتایا کہ اِس پروگرام کو کیمپس کے باہر منعقد کرنا حکمت عملی اور علامتی قدم تھاجو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یونیورسٹیاں اَب تدریس اور تحقیق سے آگے بڑھ کر کاروباریت اور علاقائی معاشی ترقی کے محرک کے طور پر اُبھر رہی ہیں۔ اُنہوں نے صنعت کے ساتھ تعلقات میں اہم سنگ میلوں کو اپجاگر کیا جن میں بیئر لرننگ سینٹر کا قیام شامل ہے جس کا اِفتتاح لیفٹیننٹ گورنر جموںوکشمیر نے کیا اوراِنڈسٹری سے پروفیسرز آف پریکٹس کی تقرری تاکہ عملی مہارت کو تعلیمی میدان میں شامل کیا جا سکے۔وائس چانسلر نے بتایاکہ زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں زائد اَز 120 سٹارٹ اپ آئیڈیاز کی انکوبیشن کی جا چکی ہے جن میں سے 32 سے زیادہ کو مرکزی وزارت زراعت و بہبود کساناںسے فنڈنگ حاصل ہوئی ہے۔ تاہم اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف فنڈنگ کافی نہیںبلکہ سکیلنگ ، تعمیل اور کمرشلائزیشن کے مراحل میں منظم رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے صنعتی شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ سٹارٹ اپس کی سرپرستی، کنٹریکٹ ریسرچ، مشترکہ مصنوعات کی تیاری، پائلٹ ٹرائلز، ٹیکنالوجی کی توثیق اور قائم شدہ سپلائی چینوں میں شمولیت کے ذریعے سپورٹ کریں۔ڈائریکٹر ریسرچ سکاسٹ جموں ڈاکٹر ایس کے گپتا نے شکریہ کی تحریک پیش کی جبکہ ڈین فیکلٹی آف بیسک سائنسز ڈاکٹر سنجے گلیریانے شرکأکا خیرمقدم کیا اور اُنہیں پروگرام کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ پروگرام کے دوران دو پینل مباحثے بھی منعقد کئے گئے جن میں مختلف اِداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔










