جموں//چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو نے جنگلات اور زراعت کے محکموں کے ساتھ ساتھ سی ایس آئی آر ۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹو میڈیسن ( آئی آئی آئی ایم ) جموں کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کی تا کہ جموں و کشمیر بھر میں میڈیسنل اینڈ ایرومیٹک پلانٹس ( ایم اے پیز ) کی کمرشل کاشت، تحفظ اور بڑے پیمانے پر فروغ کیلئے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا جائے ۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری زراعت پیداوار ، کمشنر سیکرٹری جنگلات ، ڈائریکٹر سی ایس آئی آر ۔ آئی آئی آئی ایم جموں ، محکمہ جنگلات کے سینئر افسران ، سکاسٹ اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی ۔ غور و خوض کے دوران چیف سیکرٹری نے کہا کہ جموں و کشمیر فی الحال ایم اے پی سیکٹر سے سالانہ صرف 12 کروڑ روپے کی آمدنی پیدا کر رہا ہے ، جو اس کی زبردست صلاحیت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے جس کا قومی سطح پر تخمینہ تقریباً 10000 کروڑ روپے اور عالمی سطح پر تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے ہے ۔ انہوں نے بالخصوص کسانوں کی آمدنی بڑھانے کیلئے سیکٹر کی معاشی اور روز گار کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے ایک منظم ، سائنسی بنیادوں پر مبنی اور کمرشل طور پر قابل عمل حکمت عملی کی فوری ضرورت پر زور دیا ۔ بین الشعبہ جاتی رابطہ کاری پر زور دیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے تین اہم اسٹیک ہولڈرز یعنی محکمہ جنگلات ، محکمہ زراعت و پیداوار اور زرعی تحقیقاتی اداروں کو واضح کردار اور ذمہ داریوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے زور دیا کہ محکمہ جنگلات کو اپنے نرسری نیٹ ورک کے ذریعے قدرتی ماحول میں پودوں کی افزائش ، کسانوں کو عملی تربیت دینے اور کاشتکاری کے ماڈلز تیار کرنے پر توجہ دینی چاہئیے ۔ محکمہ زراعت و پیداوار کو ہدایت دی گئی کہ علاقے میں پائے جانے والے 1100 سے زائد میڈیسنل اینڈ ایرومیٹک پلانٹس ( ایم اے پی ) انواع میں سب سے زیادہ تجارتی طور پر قابل عمل انواع کی شناخت کرے ۔ اس کے علاوہ اس محکمے کو انواع کے مطابق ایگرو ۔ کلایمیٹک زونیشن کرنا ، سائنسی طور پر تصدیق شدہ پیکج آف پریکٹسز تیار کرنا ، ایکسٹینشن سروسز کو مضبوط کرنا اور بازار سے ربط پر توجہ دینی ہے ۔
سی ایس آئی آر ۔ آئی آئی ایم جموں اور سکاسٹ کو تکنیکی مہارت فراہم کرنے ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر میں سہولت دینے اور ایم اے پی کی کاشت کیلئے علم کی ترسیل میں مدد کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زراعت و پیداوار نے زور دیا کہ روڈ میپ طویل مدتی اور پائیداری پر مبنی ہونا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ توجہ ایک خود کفیل ماحولیاتی نظام ( ایکو سسٹم ) بنانے پر ہونی چاہئیے جو کسانوں کو پرکشش منافع یقینی بنائے ، جبکہ حکومتی تعاون یعنی ان پٹس ، صلاحیت سازی اور یقینی مارکیٹ کے ذریعے صرف ابتدائی مرحلے تک محدود رہے ۔ اجلاس میں جموں و کشمیر جنگلاتی پیداوار پالیسی 2022 میں مناسب ترامیم کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تا کہ کسانوں کی شرکت کو فروغ دیا جا سکے ، انواع کی شناخت اور مخصوص علاقوں کی ترقی کو آسان بنایا جا سکے ، تحقیق و ترقی کے ڈھانچے کو مضبوط کیا جا سکے اور مرکزی علاقے میں مارکیٹ رابطوں کو بہتر بنایا جا سکے ۔










