چیف سیکرٹری نے جی سی سی کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل کو سنا

چیف سیکرٹری نے جی سی سی کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل کو سنا

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے سول سوسائٹی کے اراکین کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ منعقد کی جو مختلف سرکاری شعبوں میں مداخلت کی ضرورت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے گروپ آف کنسرڈ سٹیزن (جی سی سی) کے بینر تلے آئے تھے۔میٹنگ میں سیکرٹری آر اینڈ بی، کمشنر ایس ایم سی ، ایس ایس پی ٹریفک، وی سی، ایل سی ایم اے، چیف اِنجینئر آئی اینڈ ایف سی کے علاوہ دیگر محکموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے بات چیت کے دوران بزرگ شہریوں کے اس گروپ کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل میں گہری دلچسپی لی۔ اُنہوں نے اِنتظامیہ کی جانب سے اُنہیں یقین دِلایا کہ تمام حقیقی مسائل پر غور کیا جائے گا اور انہیں جلد از جلد حل کیا جائے گا۔متعلقہ افسران نے بیک وقت اس گروپ کی جانب سے اُٹھائے گئے اپنے محکموں سے متعلق مسائل کے بارے میں ا پنی رائے دِی۔ اُنہوں نے ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر مقررہ مدت میں حل کرنے کی یقین دہانی بھی کی۔اِس سے قبل اس گروپ کے چیئرمین خورشید احمد گنائی نے شہر کی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔اُنہوں نے یوٹیلٹی شفٹنگ، سطح کی بہتری، پرانے شہر کے علاقوں میں سڑک کی چوڑائی کے مطابق پلوں کی توسیع کی شکل میں موجود ٹریفک کی آسان آواجاہی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے علاوہ ایسے مقامات کی نشاندہی بھی کی جہاں صرف انتظامی مداخلت سے بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔گروپ نے سمارٹ سٹی مشن کے تحت سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور آبی ذخائر کے تحفظ کو شامل کرنے کی بھی حمایت کی اور اچھن اور فل سائٹ کو بہتر بنانے کے لئے کچھ تجاویز پیش کیں۔گروپ آف کنسرڈ سٹیزن (جی سی سی) نے فلڈ پروٹیکشن کے کاموں کے حوالے سے فلڈ سپل چینل کی گنجائش میں 10,000 کیوسک تک بڑھانے میں حکومت کے کردار کا اعتراف کیا لیکن اُنہوں نے 2014 کی طرح شہر کو تباہ کن سیلاب کی صورتحال سے بچانے کے لئے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔متعلقہ گروپ نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ شہر اور اس کے آس پاس کے مشہور آبی ذخائر کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی شہرت یافتہ اِداروں کے ساتھ مل کر جدید ٹیکنالوجی اور تکنیک کا استعمال کرے۔اُنہوں نے سیاحتی پالیسی لائی لائے جو اس خطے کے ماحولیات کے نازک ماحول کے تحفظ کے لئے کافی احتیاطی اقدامات کے ساتھ دیرپایت کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ پیرامیٹروں کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔آخیر میں جی سی سی نے زمینی قوانین کوعملانے میں چیف سیکرٹری سے تعاون بھی طلب کیا جو جموں و کشمیر میں غیرزرخیز زمینوں کو زرعی مقاصد کے لئے تبدیل کرنے کو یقینی بناتے ہیں۔اس گروپ کی تشکیل کرنے والے دیگر اراکین، ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور ماہرین تعلیم میں نسیمہ لنکر، لطیف الزماں دیوا، کفایت حسین رضوی، عبدالمجید بٹ، محمد رفیع، عبدالرشید خان اور افتخار حکیم شامل ہیں۔