پانچ سالہ منصوبہ جموں و کشمیر میں تقریباً 14 لاکھ افراد کو بااختیار بنانے کا ہدف رکھتا ہے
جموں//جموں و کشمیر کی آبادی کو ابھرتے ہوئے روز گار کے مواقع اور مستقبل کیلئے تیار کرنے کے مقصد سے ایک بڑے اقدام کے طور پر سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو کو یونین ٹیر ٹیری کے سکلنگ ایکو سسٹم کو تبدیل کرنے کیلئے ایک جامع اور دور اندیش روڈ میپ پیش کیا ۔ اجلاس میں مقامی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز ، ڈائریکٹر آئی آئی ایم جموں ، منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے بینک ، سیکرٹری تعلیم ، ایم ڈی سکل مشن ، آئی آئی ٹی ، این آئی ایف ٹی اور دیگر ممتاز تعلیمی اور پیشہ وارانہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ روڈ میپ کا جائیزہ لیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے جموں و کشمیر میں بہتر اور اعلیٰ معیار کے روز گار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز ( جی سی سیز ) کے تصور کو تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے یونین ٹیر ٹیری میں ہنر مند انسانی وسائل کا مضبوط پول تیار کرنے کیلئے فیلو شپ پروگرامز تیار کرنے کی بھی تجویز پیش کی ۔ چیف سیکرٹری نے منصوبے کے مجموعی فریم ورک کی تعریف کی اور کہا کہ یہ آبادی کے مختلف طبقات کو ہنر مند بنانے کیلئے تمام ضروری اجزاء کو شامل کرتا ہے جو اسے جامع اور دور اندیش بناتا ہے ۔ تا ہم انہوں نے زور دیا کہ روڈ میپ کو زیادہ عملی ، نتائج پر مبنی اور جس میں تمام شریک اداروں کی واضح طور پر بیان کردہ ذمہ داریاں اور کردار ہوں ، بشمول قومی سطح کے اداروں جیسے آئی آئی ٹیز ، آئی آئی ایم ایز ، ایمس ، این آئی ٹیز ، یونیورسٹیز ، ایس کے آئی ایم ایس اور دیگر پیشہ وارانہ اداروں کے قابل عمل بنایا جائے ۔ روز گار کی صلاحیت پر زور دیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے صنعت اور تعلیم کے درمیان روابط کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا تا کہ ہنر مندی کے پروگراموں کی زیادہ اطلاقیت اور ملازمت کی سمت کو یقینی بنایا جائے اور انہیں مارکیٹ کے مطابق اور مستقبل کیلئے تیار کیا جائے ۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ روڈ میپ کو مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول یونیورسٹیوں ، تعلیمی اداروں اور متعلقہ سرکاری محکموں میں تبصروں اور تجاویز کیلئے گردش کیا جائے تا کہ حتمی دستاویز نتائج کے لحاظ سے زیادہ موثر اور اثر انگیز بن سکے ۔ روڈ میپ پیش کرتے ہوئے سیکرٹری سکل ڈیولپمنٹ کمار راجیو رنجن نے بتایا کہ یہ منصوبہ اگلے پانچ برسوں میں نافذ کیا جائے گا جس کا مقصد جموں و کشمیر بھر میں تقریباً 14 لاکھ افراد کو صنعت کے مطابق ہنر مندی کے ذریعے بااختیار بنانا ہے تا کہ جامع ترقی ، بہتر روز گار کی صلاحیت اور طویل مدتی معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے ۔










