چیف سیکرٹری نے جموں وکشمیر ہینڈی کرافٹس شعبے کو فروغ دینے کے اَقدامات کا جائزہ لیا

جموںوکشمیر کے ہینڈی کرافٹس کی عالمی سطح پر برانڈنگ اور کیو آر کوڈ ٹریس ایبلٹی کے فوری نفاذ پر زور

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے ہینڈی کرافٹس اور ہینڈلوم شعبوں کی ترقی اور فروغ کے لئے صنعت و حرفت محکمے کی جانب سے اُٹھائے گئے اَقدامات کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت ، ڈائریکٹر، ہینڈی کرافٹس و ہینڈلوم کشمیر وجموں، ڈائریکٹراِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف کارپٹ ٹیکنالوجی (آئی آئی سی ٹی) اور محکمہ کے دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔میٹنگ کے شروعات میں چیف سیکرٹری نے مقامی کاریگروں اور بُنکروں کی مدد، جانچ کی سہولیتوں کو مضبوط بنانے اور پورے جموں و کشمیر میں اصلی ہینڈ میڈ مصنوعات کو فروغ دینے کے لئے اُٹھائے گئے اَقدامات کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے موجودہ لیبارٹریوں کی جانچ کی صلاحیت بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا اور تمام جغرافیائی اشارے (جی آئی) ٹیگ شدہ مصنوعات کے لئے کیو آر کوڈ پر مبنی ٹریس ایبلٹی کا مضبوط نظام قائم کرنے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے کہا کہ اس ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام کو سال کے آخر تک بغیر کسی تاخیر کے عملایا جائے۔چیف سیکرٹری نے وقت پر اہم منصوبوں بشمول سری نگر اور جموں میں ’’ایکتا مالز‘‘کے قیام پر بھی زور دیا ۔اِس کے علاوہ دیگر برانڈنگ و فروغ کے اقدامات کو آگے بڑھانے کی ہدایت دی تاکہ جموں و کشمیر کے روایتی دستکاریوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا سکے۔اُنہوں نے اون اور ریشم کے گاؤں، یارن ڈائینگ کے لئے کامن فیسلٹی سینٹر، بسوہلی میں اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف ٹیکسٹائل کے قیام، سیری کلچر پارک اور کرافٹ پر مبنی ریسورس سینٹر کے قیام کے سلسلے میں پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ان منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔
چیف سیکرٹری نے محکمہ کو تربیتی مراکز، کورسوں اور ٹرینروں کے لئے این ایس کیو ایف کی منظوری حاصل کرنے کے امکانات تلاش کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ ہنر مند تربیت یافتہ اَفراد کی ملازمت کے مواقع اور ساکھ کو بڑھایا جا سکے۔کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وِکرم جیت سنگھ نے اس شعبے کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت جموں و کشمیر میں ہینڈی کرافٹس شعبے میں 18 رجسٹرڈ جی آئی مصنوعات موجود ہیں جبکہ مزید 10 پروڈکٹس پائپ لائن میں ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ جی آئی مصنوعات کی جانچ کی صلاحیت کو روزانہ 50 سے بڑھا کر 100 ٹیسٹ تک کیا گیا ہے اور دو اضافی ڈیجیٹل مائیکروسکوپس کے شامل ہونے پر اسے جلد 250 ٹیسٹ روزانہ تک بڑھایا جائے گا۔ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس و ہینڈلوم کشمیر مسرت الاسلام نے اپنی پرزنٹیشن میں بتایا کہ محکمہ نے اپنی عملی صلاحیت کو کافی حد تک بڑھایا ہے اورجی آئی سرٹیفیکیشن کے انتظار کے وقت کو صرف دو دن تک کم کیا ہے جس سے کاریگروں کو بڑی راحت ملی ہے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت تقریباً 6,000 جی آئی صارفین پورے جموںوکشمیر یوٹی میں رجسٹرڈ ہیں۔اُنہوں نے انکشاف کیا کہ محکمہ کرافٹ ڈیولپمنٹ اِنسٹی چیوٹ (سی ڈِی آئی)سری نگر کو ‘پری ایکسپورٹ ٹیسٹنگ فیسلٹی سینٹر‘ بنانے پر غور کر رہا ہے تاکہ تصدیق شدہ مصنوعات کی براہِ راست برآمد کو آسان بنایا جا سکے۔ جانچ کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لئے محکمہ سکاسٹ کشمیر کے ساتھ مصنوعات کی جانچ اور اون کے قالینوں کی بڑی پیداوار کے لئے مفاہمت نامے پردستخط کرنے پر کام کر رہا ہے۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ این آئی اِی ایل آئی ٹی کے تعاون سے تیار ہونے والا کیو آر کوڈ ٹریس ایبلٹی پروجیکٹ جلد عملایا جائے گا۔ اِس کے علاوہ این آئی ایف ٹی سری نگر کی فعال شمولیت کے ساتھ پانچ مختلف دستکاریوں میں 36 پروٹوٹائپ ڈیزائن تیار کئے گئے ہیں اور تقریباً 1,000فن کار دس ڈیزائن اور ہنر بڑھانے کے پروگراموں کے تحت تربیت یافتہ ہیں۔’ کار خانہ دار سکیم ‘کے تحت بتایا گیا کہ قومی سطح پر شہرت یافتہ ماہر کاریگر نئے کاریگروں کی رہنمائی کر رہے ہیں اور ہر ٹرینی کو ماہانہ 2,000 روپے وظیفہ کے ساتھ ہینڈ ہولڈنگ سپورٹ بھی دی جا تی ہے۔ اَب تک 12 کارخانے قائم کئے جا چکے ہیں اور اس اَقدام کے تحت زائد اَز120 کاریگروں کو تربیت دی گئی ہے۔آئی آئی سی ٹی سری نگر کے کام کے بارے میں میٹنگ کو بتایا گیا کہ اِنسٹی چیوٹ نے 2,600 قالین ڈیزائن، 600 کانی ڈیزائن تیار کئے اور 650 روایتی تعلیم کے نمونوں کو ڈیجیٹلائز کیا جس سے اَب تک 56 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی ہے۔
سری نگر اور جموں میں ’اکتا مالز‘ کے قیام کے حوالے سے بتایا گیا کہ مقامات اور ڈیزائن کی ترتیب کو حتمی شکل دی گئی ہے ۔ یہ مالز کاریگروں اور خریداروں کو ایک متحد پلیٹ فارم فراہم کریں گے جہاں وہ اصلی جموں و کشمیر کے ہنر کو دکھا سکیں، مارکیٹ کر سکیں اور خرید و فروخت کر سکیں۔میٹنگ کو یہ بھی بتایا گیا کہ ’سول فُل کشمیر‘ کے عنوان سے ایک بڑے برانڈنگ اور آؤٹ ریچ اقدام کے تحت محکمہ آج سے’’ اَپنے کاریگر کو جانیں‘‘ پروگرام کا آغاز کر رہا ہے جو جہلم ریور فرنٹ میں ہوگا۔ اس کے تحت لوگوں کو معروف کاریگروں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا موقعہ ملے گا۔ آٹھ ایسے پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔یونیسیف کریئیٹو سٹیز نیٹ ورک کے تحت’’کرافٹ سفاری‘‘ پروگرام بھی سری نگر میں کاریگر کلسٹروں کے لئے منعقد کئے گئے ہیںجن میں پیپر ماشی ، پشمینہ بُنائی، سوزنی کڑھائی، قالین بُنائی، تانبے کے برتن، ختمبند اور اخروٹ کی لکڑی کی نقش کاری شامل ہیں۔مزید برآں، میٹنگ کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر کے ہنر کی برانڈ پروموشن مہمات ایئرپورٹ ٹرمینلز، سٹی سینٹروں، ایف ایم چینلوں اور دُو درشن پر محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے تعاون سے چلائی جا رہی ہیں تاکہ عالمی سطح پر ان کی نمائش اور مارکیٹ کی رَسائی کو بڑھایا جا سکے۔