جموں// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر اور لداخ یوٹیز کے لئے فائنانشل لٹریسی وویک ( ایف ایل ڈبلیو) 2026 کا اِفتتاح کیا ۔ یہ ہفتہ بھر کا پروگرام ریزرو بینک آف اِنڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے 9 ؍فروری سے 13؍ فروری 2026 ء تک منعقد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد شہریوں میں مالی بیداری اور محفوظ بینکنگ کے طریقوں کو مضبوط بناناہے۔تقریب میں سیکرٹری دیہی ترقی و پنچایتی راج محکمہ رچنا شرما ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جموں ودھو شیکھر ، جوائنٹ ڈائریکٹر اِنفارمیشن دیپک دوبے ،جی ایم / او آئی سی نبارڈ جموں وِکاس متل ،سی جی ایم جے اینڈ کے بینک سونیت کمار، بینکوں کے کنٹرولنگ سربراہان اور سرکاری محکموں، آر بی آئی، بینکوں، مالیاتی اداروں اور یوٹی ایل بی سی جے اینڈ کے و لداخ کے اَفسران و نمائندگان بھی موجود تھے۔اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری نے بینکاروں اور شراکت داروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالی شمولیت ’’ سرودیا کے ذریعے انتیودیا ( فرد کے ذریعے سب کی بھلائی) ‘‘کے گاندھیائی اصول کی عکاس ہے جو نہ صرف ایک پالیسی مقصد ہے بلکہ تمام اِداروں کی مشترکہ ذِمہ داری بھی ہے۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مالی شمولیت کی اہمیت اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ 17 دیرپاترقیاتی اہداف (ایس ڈِی جیز) میں سے تقریباً سات براہ راست مالیاتی رسائی اور عوام کو بااِختیار بنانے سے منسلک ہیں۔اُنہوں نے حالیہ کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جولائی تا اکتوبر 2025 ء کے دوران تین ماہ پر محیط مالی شمولیت مہم میں حکومت نے بینکاری اداروں کے تعاون سے پنچایت سطح پر وسیع پیمانے پر کام کیا تاکہ مختلف مرکزی حکومت کے منصوبوں جیسے پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا (پی ایم جے جے بی وائی)، پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈِی وائی)، اٹل پنشن یوجنا (اے پی وائی) اورپردھان منتری سُرکشا بیمہ یوجنا (پی ایم ایس بی وائی ) کے فوائد پہنچائے جائیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں تقریباً 5.9 لاکھ کھاتوں کی کے وائی سی اَپ ڈیٹ ہوئی جس میں ہدف بنائے گئے اکاؤنٹس کا تقریباً 51 فیصد شامل ہے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ آر بی آئی، نبارڈ ، ایس اِی بی آئی ، پی ایف آر ڈِی اے اور بینک جیسے ادارے شہریوں میں مالی بیداری پیدا کرنے کے لئے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ معاش کی تربیت اور ہنر مندی کے فروغ کے پروگراموں کے ساتھ ساتھ جے کے بوس نصاب میں مالی خواندگی کے اسباق کو متعارف کرنے سے گورننس کے ذریعے مالیاتی انضمام بھی زور پکڑ رہا ہے۔اُنہوں نے اس سال کے موضوع’’کے وائی سی ۔ محفوظ بینکاری کی طرف پہلا قدم‘‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے مرکزی کے وائی سی میکانزم اَپنانے کی ضرورت پر زور دیاجو یو پی آئی کی طرح مالی لین دین اور کریڈٹ تک رسائی کو آسان بنائے گا، ساتھ ہی کھاتوں کی حفاظت اور مالی دھوکہ دہی اور سائبر خطرات سے بچاؤ کو مضبوط کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ وِکست بھارت اور دیر پا ترقی کا ویژن مکمل مالی شمولیت سے جڑا ہوا ہے۔چیف سیکرٹری نے نچلی سطح تک رَسائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کامن سروس سینٹروں(سی ایس سیز) کو آخری مرحلے کی مؤثر خدمات کے لئے زیادہ استعمال کیا جانا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیلف ہیلپ گروپوں ( ایس ایچ جیز) جن کے جموںوکشمیر میں تقریباً 8 لاکھ ممبران ہیں، کو کمیونٹی سطح پر مالی بیداری بڑھانے کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے کہا کہ اے ٹی ایم کیوسک ، سوشل میڈیا پلیٹ فارموں اور ریلوے کو عوامی مالی بیداری کے بطور اوزار استعمال کیا جا سکتا ہے کیوں کہ فائنانشل لٹریسی براہِ راست مالی بااختیاری میں تبدیل ہوتی ہے۔ریجنل ڈائریکٹر آر بی آئی جموں شیکھر آزاد نے اپنے افتتاحی کلمات میں بتایا کہ گزشتہ برس گاؤں کی سطح پر مالی شمولیت کے منصوبوں کو پہنچانے کے لئے ایک قومی مہم چلائی گئی تھی جس میں بینک کھاتوں کی دوبارہ کے وائی سی شامل تھی۔آر بی آئی جموں نے جموںوکشمیر اور لداخ میں بینکوں اور شراکت اروں کے ساتھ مل کر اس مہم کو فعال طور پر سپورٹ کیا تاکہ اہل کھاتہ داروں کی دوبارہ کے وائی سی اندراج کو یقینی بنایا جا سکے۔ہفتے کے دوران آر بی آئی بینکوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر جموںوکشمیر او رلداخ یوٹیز سمیت ملک بھر میں بیداری پروگرام او رسائی سرگرمیاں منعقد کرے گا ۔یہ اقدامات پورے سال جاری رہیں گے۔










