چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں صفائی ، رہائش اور روزگار پیدا کرنے کیلئے اہم شہری سکیموں کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں صفائی ، رہائش اور روزگار پیدا کرنے کیلئے اہم شہری سکیموں کا جائزہ لیا

جموں//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے ہاؤسنگ و اَربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (ایچ اینڈ یو ڈِی ڈِی) کی میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر کے شہری علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، صفائی کو یقینی بنانے اور معیارِ زِندگی میں بہتری لانے کے لئے جاری اہم سکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری ایچ اینڈ یو ڈِی ڈِی ، جموں اور سری نگر میونسپل کارپوریشنز (جے ایم سی / ایس ایم سی ) کے کمشنروں، منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے ہاؤسنگ بورڈ ،منیجنگ ڈائریکٹر امرت، جموں و سری نگر ڈیولپمنٹ اتھارٹیز (جے ڈِی اے / ایس ڈِی اے) کے چیئرپرسنوں، کشمیر اور جموں ڈویژنوں کے اربن لوکل باڈیز کے ڈائریکٹروں، دین دیال انتودیہ یوجنا (ڈِی اے وای ۔ این یو ایل ایم)کے منیجنگ ڈائریکٹر اور دیگرسینئر اِفسران نے شرکت کی۔جائزہ کے دوران چیف سیکرٹری نے مرکزی معاونت والی سکیموں جیسے سوچھ بھارت مشن (شہری)، پردھان منتری آواس یوجنا (شہری)، امرت 2.0 اور دین دیال انتودیہ یوجنا (ڈِی اے وای ۔ این یو ایل ایم) شہری کی عمل آوری کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔اُنہوں نے شہری بنیادی ڈھانچے اور میونسپل خدمات کو مضبوط بنانے میں ان سکیموں کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے متعلقہ محکمہ کو ہدایت دی کہ عمل آوری کی رفتار کو نمایاں طور پر تیز کیا جائے۔ اُنہوں نے بالخصوص اِستعمال شدہ پانی کے انتظام، صفائی، کوڑاکرکٹ کو ٹھکانے لگانے اور اس کی ٹریٹمنٹ سے متعلق منصوبوں کی جلد تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔چیف سیکرٹری نے پردھان منتری آواس یوجنا ( پی ایم اے وائی( اربن) کے حوالے سے رُکاوٹوں کو دُور کرنے اور رہائشی یونٹوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دِیا۔ اُنہوں نے مستفیدین کو بروقت تعمیر شروع اور مکمل کرنے کے لئے مالی اِمداد کی بروقت فراہمی کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے محکمہ کو مزید ہدایت دی کہ اِنٹرسٹ سبسڈی سکیم (آئی ایس ایس) کے تحت تمام اہل مستفیدین کو شامل کیا جائے اور رہائشی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لئے سخت نگرانی کی جائے۔اُنہوں نے امرت 2.0 کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ ہر پروجیکٹ کے لئے واضح ٹائم لائن طے کریں اور مسلسل نگرانی کے ذریعے تکمیل کے نظام الاوقات پر سختی سے عمل کو یقینی بنائیں۔اِس سے قبل کمشنر سیکرٹری ایچ اینڈ یو ڈِی ڈِی مندیپ کور نے مختلف سکیموں کے تحت حاصل کی گئی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ۔ اُنہوں نے درپیش اہم رُکاوٹوں، ان کے حل کے لئے اُٹھائے گئے اَقدامات اور مستقبل کی حکمت عملی اور روڈ میپ کا خاکہ پیش کیا۔کمشنر جے ایم سی اور منیجنگ ڈائریکٹر سوچھ بھارت مشن (یو)دیونش یادو نے سوچھتا سرویکشن 2026 کی تیاریوں پر تفصیلی پرزنٹیشن دی۔ اُنہوں نے گھر گھر کوڑاکرکٹ جمع کرنے، الگ کرنے کے طریقوں میں بہتری اور مستقبل میں سورس سیگریگیشن کے منصوبوںمیں بہتری کی وضاحت کی۔اُنہوں نے صفائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر روشنی ڈالی جس میں کمیونٹی اور پبلک ٹوائلٹس، اِنفرادی گھر یلو بیت الخلأ ، میٹریل ریکوری فیسلٹیز ، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس، سری نگر اور جموں میں تعمیر و انہدام (سی اینڈ ڈِی) کچرے کی پروسسنگ پلانٹس، کمپریسڈ بائیو گیس (سی بی جی) پلانٹس اور شہری علاقوں میں پرانے کچرے کی بائیو ریمیڈیشن شامل ہیں۔ کمشنر ایس ایم سی پیر فضل الحسیب نے سری نگر میں موجودہ اور آئندہ ویسٹ مینجمنٹ اِنفراسٹرکچر کا جائزہ پیش کیاجس میں سائنسی بنیادوں پر کوڑاکرکٹ جمع کرنے اور ٹھکانے لگانے کے نظام پر توجہ دی گئی۔منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے ہاؤسنگ بورڈ شہباز مرزا نے پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے مختلف حصوں جیسے بینیفشری لیڈ کنسٹرکشن (بی ایل سی)، افورڈیبل ہاؤسنگ اِن پارٹنرشپ (اے ایچ پی) اور اِنٹرسٹ سبسڈی سکیم (آئی ایس ایس) کے تحت پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ مرحلہ اوّل کے تحت منظور شدہ 39,153 مکانات میں سے 31,173 مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 1,791 پر ابھی کام شروع نہیں ہوا اور باقی تکمیل کے قریب ہیں۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ مرحلہ دوم کے تحت تقریباً 27,700 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 23,203 کی زمینی سطح پر تصدیق کی جا چکی ہے اور اس عمل کے نتیجے میں 3,011 اہل مستحقین کی بھی شناخت کی گئی ہے۔میٹنگ کو نئی شروع کی گئی ڈی۔جے اے وائی (شہری) سکیم کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس سکیم کو فی الحال جموں اور سری نگر شہروں میں پائلٹ بنیادوں پر عملایا جا رہا ہے۔بتایا گیا کہ اس سکیم کے تحت اَب تک 2,56,659 اَفراد کا اندراج کیا جا چکا ہے جن میں تعمیراتی کارکن، گیگ ورکرز، صفائی کارکن، گھریلو ملازمین، ٹرانسپورٹ ورکرز، نگہداشت کرنے والے اَفراد اور غیر منظم شعبے کے دیگر کارکن شامل ہیں۔میٹنگ میںجانکاری دی گئی کہ ان اَفراد کو مختلف سماجی تحفظ سکیموں جیسے پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا، آیوشمان بھارت، پردھان منتری جن دھن یوجنا، پردھان منتری شرم یوگی ماندھن، جننی سرکشا یوجنا اور ون نیشن ون راشن کارڈ وغیرہ کے تحت کور کیا گیا ہے۔بعد میں چیف سیکرٹری نے سوچھ بھارت مشن (شہری) کے تحت سنگل یوز پلاسٹک چالان اور آئی اِی سی پورٹل کا آغاز کیا جس کا مقصد سنگل یوز پلاسٹک کے نقصانات کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور اس کے اِستعمال کو روکنے کے لے نفاذ کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانا ہے۔