چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا

جموں//چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں یوٹی بھر میں جاری اور مجوزہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ صحت سہولیات کو مضبوط بنانا حکومت کی اوّلین عوامی خدمت ترجیحات میں شامل ہے۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹریمحکمہ تعمیراتِ عامہ؛ سیکرٹری صحت و طبی تعلیم، ڈائریکٹرسکمز منیجنگ ڈائریکٹر این ایچ ایم،گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے پرنسپل ، ڈائریکٹرہیلتھ سروسز کشمیر،جموں، منیجنگ ڈائریکٹرایچ ایس سی سی، آر اینڈ بی کے چیف اِنجینئروں اور دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔جائزے میں محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے عمل میں لائے جا رہے منصوبوں کا وسیع احاطہ کیا گیا جن میں گورنمنٹ میڈیکل کالجوں، ایس کے آئی ایم ایس، ڈینٹل کالجوں، ہیلتھ سروسز، ایس اے ایس سی آئی منصوبے اور مرکزی معاونت والی سکیمیں جیسے پی ایم۔اے بی ایچ آئی ایم اور اِی سی آر پی۔II شامل ہیں۔چیف سیکرٹری نے منصوبہ وار جامع جائزہ لیتے ہوئے طبعی و مالی پیش رفت، فنڈز کے اِستعمال اور بروقت تکمیل میں حائل رُکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے منظوری کے عمل کو تیز کرنے، بین محکمانہ رُکاوٹوں بالخصوص زمین اور یوٹیلٹی خدمات سے متعلق مسائل حل کرنے اور مقررہ مدت اور معیار پر سختی سے عمل کرنے کی واضح ہدایات جاری کیں۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ صحت کے منصوبوں میں تاخیر کا براہِ راست اثر عوامی فلاح و بہبود پر پڑتا ہے۔ اُنہوں نے متنبہ کیا کہ ایسی کوتاہیوں کا اعلیٰ سطح پر سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور وسائل کے مؤثر اِستعمال کے ذریعے لاگت میں اضافے سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی انیل کمار سنگھ نے منصوبہ وار ڈیڈ لائنز کا نوٹس لیا اور چیف اِنجینئروں کو ہدایات دیں کہ وہ مقامی سطح کی رُکاوٹوں کو دور کریں تاکہ کام بغیر کسی تعطل کے جاری رہ سکے۔سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ نے گزشتہ جائزہ میٹنگ سے اَب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا اور منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کے لئے محکمہ کے طریقہ کار کی وضاحت کی۔دورانِ میٹنگ جی ایم سی جموں، جی ایم سی سری نگر اور ان سے منسلک ہسپتالوں میں جاری بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جن میں بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال جموں کی تعمیر اور ٹریشری کیئر کی سہولیات میں توسیع شامل ہے۔ اِسی طرح اِندرا گاندھی گورنمنٹ ڈینٹل کالج و ہسپتال جموں میں جاری کاموں کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں ڈینٹل تعلیم اور مریضوں کی نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
چیف سیکرٹری نے اننت ناگ، ڈوڈہ، کٹھوعہ، ودھمپور اور ہندواڑہ میں نئے گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور عمل آوری ایجنسیوں کو منظور شدہ ٹائم لائنز پر سختی سے کرنے کی ہدایت دی۔جی ایم سی اننت ناگ میں ایم ایم اے بی ایم ایسوسی ایٹیڈ ہسپتال میں 249 بستروں پر مشتمل زچہ و بچہ کیئر ہسپتال کی تعمیر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اِس منصوبے کو اَب یو ٹی کیپکس کے تحت فنڈ فراہم کیا جائے گا اور نظر ثانی شدہ ڈی پی آر میں فرنیچر اور فرنشننگ کی ضروریات کوبھی شامل کیا جائے گا۔جی ایم سی اودھمپور میں اِی سی آر پی۔دوم کے تحت منظور شدہ 50 بستروں والے کریٹیکل کیئر بلاک کے لئے جگہ کی کمی سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا گیا اورہسپتال کی توسیع میں سہولیت کے لئے آئی ٹی آئی کی اراضی اور عمارتوں کی منتقلی کے لئے این او سی کی کارروائی جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ جی ایم سی راجوری میں بنیادی ڈھانچے کے کاموں جن میں پارکنگ سہولیات، حفاظتی دیواریں، برقی نظام کی مضبوطی اور ریذیڈنٹ ڈاکٹروں کے لئے ہوسٹلز شامل ہیں، کا بھی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں سکمز صورہ اور سکمز میڈیکل کالج بمنہ میں جاری اہم ٹریشری نگہداشت کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور چیف سیکرٹری نے ہدایت دی کہ ان اعلیٰ مالیت کے منصوبوں کو بغیر کسی رُکاوٹ کے مکمل کیا جائے تاکہ وادی میں جدید صحت خدمات کی فراہمی کو تقویت مل سکے۔ہیلتھ سروسز کے تحت لیمبری (راجوری) میں 100 بستروں پر مشتمل زچہ و بچہ کیئر ہسپتال ، ایس ڈی ایچ بلاور کو 100 بستروں تک اَپ گریڈ کرنے، سندربنی میں 50 بستروں کے ہسپتال، نوشہرہ میں 100 بستروں کے ہسپتال کی اَپ گریڈیشن اور ریشی پورہ بڈگام میں 125 بستروں پر مشتمل ضلعی ہسپتال کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ نوٹ کیا گیا کہ یہ منصوبے جموں و کشمیر میں ثانوی اور ضلعی سطح کی صحت خدمات کو نمایاں طور پر مضبوط کریں گے۔ ریاستوں کو سرمایہ جاتی سرمایہ کاری کے لئے خصوصی امداد (ایس اے ایس سی آئی) کے تحت منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے چیف سیکرٹری کو بتایا گیا کہ 23 منصوبوں کو مالی منظوری مل چکی ہے جن میں سے 13 پر کام جاری ہے۔ موجودہ مالی بر 2025-26 کے دوران کیپکس اورایس اے ایس سی آئی کے تحت 34.98 کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی ہے جبکہ 20 کروڑ روپے سے زائد کے کام پہلے ہی مکمل کئے جا چکے ہیں۔اُنہوں نے محکمہ کو ہدایت دی کہ غیر فعال اور سست رفتاری والے منصوبوں کو منظم کریں، ناقابل عمل منصوبوں کو مناسب منظوری کے بعد منسوخ کیا جائے اور فنڈز کے تعطل سے بچنے کے لئے انہیں مناسب مالی ذرائع کے تحت دوبارہ پیش کیا جائے۔ایچ ایس سی سی کی طرف سے پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ اِنفراسٹرکچر مشن (پی ایم ۔ اے بی ایچ آئی ایم) اوراِی سی آر پی۔دوم پر ایک تفصیلی پرزنٹیشن بھی دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ان میں سے بیشتر اہم کریٹیکل کیئر منصوبے مارچ 2026 ء تک کافی حد تک مکمل ہو جائیں گے اور ہر منصوبے میں طبعی پیش رفت اور متوقع تکمیل کی تاریخ سے آگاہ کیا گیا۔ اِی سی آر پی۔دوم کے تحت 178.32 کروڑ روپے مالیت کے کاموں کا جائزہ لیا گیاجس میں چیف سیکرٹری نے مالی اَخراجات کے مطابق طبعی پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت دی۔چیف سیکرٹری نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی بروقت تکمیل خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لئے نہایت اہم ہے اور تمام شراکت داروں کو ہدایت دی کہ وہ قریبی تال میل برقرار رکھیں تاکہ مقررہ مدت کے اندر بغیر کسی تاخیر کے زمینی سطح پر ٹھوس نتائج حاصل کئے جا سکیں۔