چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیرکے اَضلاع میں ’مشن یووا ‘ کی پیش رفت جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیرکے اَضلاع میں ’مشن یووا ‘ کی پیش رفت جائزہ لیا

جموں// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں ’یووا مشن‘‘ کی ضلع وار کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں نوجوانوں میں کاروباری صلاحیت کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے کلچر، سرمایہ، سرمایہ، صلاحیت اور رابطہ کاری جیسے اہم پہلوؤں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری سیاحت، مختلف یونیوسٹیوں کے وائس چانسلروں، ڈائریکٹر اِنڈین انسٹی چیوٹ آف مینجمنٹ جموں، کمشنر سیکرٹری منصوبہ بندی، سیکرٹری محنت و روزگار، ڈِی جی کوڈز، منیجنگ ڈائریکٹر جموںوکشمیر لائیولی ہڈ مشن ، ڈائریکٹر ایمپلائمنٹ، ڈائریکٹر کالجز، کنوینر یو ٹی ایل بی سی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی جبکہ ضلع ترقیاتی کمشنروں نے اپنے اپنے اضلاع سے بذریعہ ویڈیوکانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔میٹنگ میں ادیم جاگرتی 4.0 کے تحت بیداری مہمات، ادارہ جاتی نظام کے قیام جیسے پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹوں(پی ایم یوز)،سمال بزنس ڈیولپمنٹ یونٹوں( ایس بی ڈِی یوز)، بزنس ہیلپ ڈیسک (بی ایچ ڈیز) کے قیام اور موٹیویٹرز اوریووا دوتوں کی تقرری کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اِس کے علاوہ درخواستوں کی جانچ، قرضوں کی منظوری، کاروباری انکوبیشن اور کاروباری ماحولیاتی نظام کی ترقی کا بھی جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری نے اَب تک کی پیش رفت جائزہ لیتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اضلاع میں ادارہ جاتی فریم ورک کو مکمل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں۔ اُنہوں نے ہدایت دی کہ ایس بی ڈِی یوز اور بی ایچ ڈیز کو جلد از جلد فعال بنایا جائے اور موٹیویٹرز اور یووا دوتوں کی بروقت تقرری کو یقینی بنایا جائے تاکہ مشن کو مؤثر طریقے سے عملایا جا سکے۔اُنہوں نے رسائی کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ کالجوں اور سیلف ہیلپ گروپوں میں ادیم جاگرتی مہم کو مزید تیز کیا جائے تاکہ نوجوان کاروباری اَفراد کو مناسب رہنمائی، مشاورت اور تعاون فراہم کیا جا سکے اور وہ اَپنے آئیڈیاز کو کامیاب کاروبار میں تبدیل کر سکیں۔اَتل ڈولو نے مالیاتی اداروں کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 1200 کروڑ روپے کے قرضوں کی منظوری اور 964 کروڑ روپے کی اجرائیگی حوصلہ افزا پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم ،اُنہوں نے بینکوں کو مشورہ دیا کہ وہ روزانہ 150 سے 200 قرضوں کی اجرائیگی کی رفتار برقرار رکھیں تاکہ زیر اِلتوا ٔمعاملات نمٹائے جا سکیں اور سالانہ اہداف بروقت حاصل کئے جا سکیں۔اُنہوں نے قرضوں کے ذریعے قائم ہونے والے کاروباری اِداروں کی پیش رفت کی باقاعدہ نگرانی اور جائزے کی بھی ہدایت دی تاکہ ان اداروں کی دیرپائی اور کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں قائم انکوبیشن مراکز میں پائے جانے والے خلا کو دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ اداروں جانچ کے لئے استعمال ہونے والے معیار کو اشتراک کیا جائے تاکہ اصلاحی اقدامات کئے جا سکیں۔اُنہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنروں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ مقامی کاروباری اداروں کواوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس(او این ڈِی سی) کے سیلر پلیٹ فارم پر آن بورڈ کریں تاکہ وہ ڈیجیٹل مارکیٹ کے ذریعے اپنی مصنوعات کے لئے وسیع منڈی تک رسائی حاصل کر سکیں۔اِس موقعہ پر سیکرٹری محنت و روزگار کمار راجیو رنجن نے تفصیلی پریزنٹیشن دیتے ہوئے جموں و کشمیر میں مشن یووا کی ضلع وار پیش رفت سے میٹنگ کو جانکاری دی ۔ اُنہوں نے ثقافت، سرمایہ، صلاحیت اور رابطہ کاری کے چار ستونوں کے تحت حاصل شدہ کامیابیوں اور مزید توجہ طلب شعبوں کی نشاندہی کی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ ادیم جاگرتی4.0 بیداری مہم کے تحت اَب تک 95 فیصد پنچایتوں تک رسائی حاصل کی جا چکی ہے اور 2,51,352 اَفراد تک معلومات پہنچائی گئی ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ مشن یووا موبائل ایپ کے 2,20,928 ڈاؤن لوڈز ہو چکے ہیںجو گزشتہ ایک ماہ کے دوران 47 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔میٹنگ کو مزید بتایا گیا کہ بیداری مہم کے تحت تقریباً 47,672 طلبأ کو کالج سطح پر شامل کیا گیا جبکہ 1,97,400 خواتین جو سیلف ہیلپ گروپوں سے وابستہ ہیں، تک بھی بیداری پروگراموں کے ذریعے رسائی حاصل کی گئی۔ان اقدامات کے نتیجے میں 1,937 سیلف ہیلپ گروپس کریڈٹ درخواستیں موصول ہوئیں جبکہ 6,281 منظور شدہ درخواست دہندگان کو رہنمائی اور تعاون فراہم کیا گیا۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ ادارہ جاتی مضبوطی کے تحت 367 منظور شدہ اسامیوں میں سے 187 پر تقرریاں کی جا چکی ہیں جبکہ 180 اسامیاں ابھی خالی ہیں۔ اسی طرح 1,000 موٹیویٹرز کی منظور شدہ اسامیوں میں سے 582 موٹیویٹرز کو پینل میں شامل کیا گیا ہے جن میں 65 لکھپتی دیدیاں بھی شامل ہیں۔
میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 20 میں سے 13 اضلاع میں ایس بی ڈِی یو مراکز قائم ہو چکے ہیں جبکہ باقی اضلاع جموں، کشتواڑ، راجوری، ریاسی،سانبہ ، اودھمپور اور اننت ناگ میں یہ مراکز مختلف مراحل میں ہیں اور 20؍ مارچ 2026ء تک تمام مراکز فعال ہونے کی توقع ہے۔میٹنگ میں مزید جانکاری دی گئی کہ 6؍ مارچ 2026 تک مشن کے تحت 1,83,306 رجسٹریشنز ہو چکی ہیں جبکہ 72,037درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے 56,167 درخواستوں کی ایس بی ڈِی یوز نے تصدیق کی جبکہ 50,743 درخواستیں ضلع سطح کی عمل درآمد کمیٹیوں نے منظور کی ہیں۔بینکوں نے 18,093 قرضے منظور کئے جن میں سے 15,192 قرضے جاری کئے جا چکے ہیں جس کے نتیجے میں 3,187 کاروباری ادارے قائم ہوئے جبکہ 2,053 مزید زیر عمل ہیں۔میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ اِختراع پر مبنی کاروباری اداروں کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو 19 جنوری 2026 کو 119 سے بڑھ کر 4 فروری 2026 کو 364 ہو گئیں۔مشن کے تحت پانچ سالہ ہدف 500 جدید کاروباری اداروں کے قیام کے لئے تمام 14 انکوبیشن مراکز کو شامل کیا جا چکا ہے جبکہ 80 فیصد مراکز میںایکس اِنوویٹ 1.0 بیداری پروگرام منعقد کئے جا چکے ہیں۔ چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے کہا کہ مشن یووا نوجوانوں میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جموں و کشمیر میں ایک مضبوط سٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام قائم کرنے کے لئے ایک انقلابی اقدام ہے۔ انہوں نے تمام شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ باہمی اشتراک سے اس مشن کے اہداف کو مقررہ وقت میں حاصل کریں۔