چیف سیکرٹری نے جامع ایم ایس ایم اِی جائزے کیلئے مقررہ وقت پر ایکشن پلان طلب کیا

چیف سیکرٹری نے جامع ایم ایس ایم اِی جائزے کیلئے مقررہ وقت پر ایکشن پلان طلب کیا

ریمپ( آر اے ایم پی) سکیم کے تحت ایم ایس ایم اِی ہیلتھ کلینک کے کام کا جائز لیا

جموں// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے محکمہ صنعت و حرفت کے سینئر اَفسران اور دیگر شراکت دارون کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ریزنگ اینڈ ایکسیلیریٹنگ ایم ایس ایم ای پرفارمنس (آر اے ایم پی) پروگرام کے تحت قائم ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک کی عمل آوری کا جائزہ لیا گیا۔اِس جائزے میں اَب تک حاصل کردہ پیش رفت، کاروباری اِداروں تک رسائی اور دباؤ والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایم ایس ایم اِیز) کی جلد شناخت اور بحالی کے طریقۂ کارپر توجہ مرکوز کی گئی۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹر ی صنعت و حرفت کے علاوہ سیکرٹری اِن صنعت و حرفت، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ٹی پی او، ڈائریکٹر اِنڈسٹریز جموں/کشمیر اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ صنعت و حرفت کو ہدایت دی کہ جموں و کشمیر میں موجود تمام ایم ایس ایم ایز کے منظم تجزئیے کے لئے ایک واضح اور مقررہ وقت پر ایکشن پلان تیار کیا جائے۔ اُنہوں نے ہیلتھ کلینک کے عملی اور ٹھوس نتائج فراہم کرنے کو یقینی بنانے کے لئے واضح ٹائم لائنز، قابلِ پیمائش اہداف اور ضلع وار کوریج کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ بروقت تشخیص اور مداخلت روزگار کے تحفظ اور اِقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے کے لئے نہایت اہم ہے۔ اُنہوں نے ہدایت دی کہ عمل آوری کی باریک بینی سے نگرانی کی جائے اور وقتاً فوقتاً اس کا جائزہ یا جائے تاکہ ایم ایس ایم اِی ہیلتھ کلینک یونین ٹیریٹری میں کاروباری بحالی اور طویل مدتی استحکام کے لئے ایک مضبوط ادارہ جاتی نظام بن سکے۔کمشنر سیکریٹری صنعت و حرفت وِکرم جیت سنگھ نے میٹنگ کو جانکاری دی کہ ایم ایس ایم اِی ہیلتھ کلینک کو اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) جموں کے ذریعے عملایا جا رہا ہے جس کے لئے 30.64 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ اِس اَقدام کا مقصد ایم ایس ایم اِیز کو تشخیصی مطالعات، مشاورت، رہنمائی، ہینڈ ہولڈنگ اور اَپنی مرضی کے مطابق تبدیلی کے حل کے ذریعے مالی اور غیر مالی مدد فراہم کرنا ہے تاکہ کاروباری استحکام اور دیرپائی کو مضبوط کیا جا سکے۔اُنہوں نے مزید کہاکہ ایم ایس ایم اِی ہیلتھ کلینک پورٹل 11جولائی 2025 ء کو لانچ کیا گیا تھا اور آئی آئی ایم جموں، جے کے ٹی پی او اور ڈائریکٹوریٹ آف اِنڈسٹریز اینڈ کامرس جموں و کشمیر کے درمیان ایک سہ فریقی مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ ریمپ ( آر اے ایم پی) پروگرام کے تحت جموں و کشمیر کو مجموعی طور پر 74.03 کروڑ روپے کی منظوری ملی ہے جس میں 66.63 کروڑ روپے ریمپ حصہ اور 7.40 کروڑ روپے یونین ٹیریٹری کا حصہ شامل ہے تاکہ مختلف ایم ایس ایم اِی پر مرکوز اقدامات پر عمل درآمد کیا جا سکے۔منیجنگ ڈائریکٹر ٹی پی او سدرشن کمار نے وضاحت کی کہ اَب تک 417 مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار(ایم ایس ایم ایز) کو پورٹل پر آن بورڈ کیا جا چکا ہے جن میں 75 قابلِ بحالی یونٹ، ایک ناکارہ یونٹ اور 340 مستحکم یونٹ شامل ہیں۔ دو ایم ایس ایم ایز کی تشخیصی مطالعے کی رپورٹیں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ قابلِ بحالی یونٹوں کے لئے آن لائن ماہرین کی مشاورت بھی کی گئی ہے، جس کے بعد فیلڈ وزٹ کئے جائیں گے ۔اُنہوں نے پرزنٹیشن کے دوران بتایا کہ جموں و کشمیر میں 8.12 لاکھ سے زائد ایم ایس ایم ایز موجود ہیں جن میں سے 73 فیصد سے زیادہ اِدارے اُدیم رجسٹریشن کے ذریعے باضابطہ ہو چکے ہیں۔ اِدارہ جاتی مدد کی ضرورت کوتسلیم کرتے ہوئے ہیلتھ کلینک کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ دباؤ کی ابتدائی علامات کی نشاندہی کر کے قابلِ عمل یونٹ کو ناکارہ اور غیر فعال ہونے سے روکا جا سکے۔یہ بھی بتایا گیا کہ ڈیٹا اِنٹگریشن میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے جس کے تحت اُدیم پورٹل کے ساتھ اے پی آئی لنک قائم کیا گیا ہے اور 5.85 لاکھ ایم ایس ایم ایز کا اُدیم ڈیٹا ہیلتھ کلینک پلیٹ فارم پر اَپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ بی آئی ایس اے جی ۔ این جلد ہی ایم ایس ایم ایز کے لئے بڑے پیمانے پر مواصلاتی مہم شروع کرے گا تاکہ ڈیٹا کی تازہ کاری کی جا سکے جس کا ہدف جنوری 2026 ء تک مکمل کرنا ہے۔ ہیلتھ کلینک کے لئے پیشہ ورانہ وسائل کی بھرتی آخری مرحلے میں ہے اور جلد ہی مکمل ہونے کی توقع ہے۔اِس پروگرام کے تحت 959 ایم ایس ایم ایز کے لئے مالی بحالی سپورٹ تجویز کیا گیا ہے جس میں فی یونٹ اوسطاً 2.77 لاکھ روپے کی مدد دِی جائے گی ۔ اِس کے علاوہ رہنمائی، مشاورت اور کاروباری عمل کا سپورٹ جیسے وسیع غیر مالی اقدامات بھی کئے جائیں گے۔اہم اقدامات میں اُدیم رجسٹریشن کے ذریعے ایم ایس ایم ایز کو باضابطہ بنانا، جموں و کشمیر ایم ایس ایم اِی ہیلتھ کلینک کا قیام، موجودہ اور نئے کاروباری اَفراد کے لئے مینجمنٹ ڈیولپمنٹ اور مہارت میں اِضافہ کے پروگرام، جی آئی، او ڈِی او پی اور منفرد مصنوعات کے لئے پروڈیوسر کمپنیوں اور ایسوسی ایشنوںکی تشکیل، ڈیجیٹل فائنانسنگ کی رَسائی، بائر سیلر میٹس اور ریسورس بائر سیلر میٹس کا اِنعقاد، جموں و کشمیر کی منفرد مصنوعات کی پیکیجنگ اور تشہیر اور آر اے ایم پی مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ڈیش بورڈ کی تیاری شامل ہیں۔
ڈائریکٹر صنعت و حرفت جموں ارون مانہاس نے میٹنگ کو بتایا کہ صلاحیت سازی کے اقدامات جن میں مینجمنٹ ڈیولپمنٹ پروگرام (ایم ڈِی پی) اور اَنٹرپرینیورشپ اینڈ سکل ڈیولپمنٹ پروگرام (اِی ایس ڈِی پی) شامل ہیں، جے کے اِی ڈی آئی کے ذریعے عملائے جا رہے ہیںجبکہ جی آئی،او ڈی او پی مصنوعات اور دستکاری سے متعلق اقدامات ڈائریکٹوریٹ آف ہینڈی کرافٹس اینڈ ہینڈلوم کے ذریعے انجام دئیے جا رہے ہیں۔ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن بائر سیلر میٹس کا اِنعقاد کر رہی ہے جبکہ مالیاتی اِداروں کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل فائنانسنگ کی رسائی کو آسان بنایا جا رہا ہے۔ ریمپ ( آر اے ایم پی) مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ڈیش بورڈ ایس آئی سی او پی کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ نتائج کی ڈیٹا پر مبنی نگرانی کو ممکن بنایا جا سکے۔مزید یہ بھی بتایا گیا کہ اَب تک منظور شدہ اَقدامات کے تحت 3.86 کروڑ روپے جاری کئے جا چکے ہیں جبکہ آئی اِی سی سرگرمیاں جو منظور شدہ بجٹ کا پانچ فیصد ہیں، کو بھی پروگرام کے تحت بیداری اور شراکت دارون تک رَسائی بڑھانے کے لئے شامل کیا گیا ہے۔