چیف سیکرٹری نے این ایچ ایل ایم ایل کے ذریعے تعمیر کئے جانے والے لاجسٹک اِنفراسٹرکچر پروجیکٹوں کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے این ایچ ایل ایم ایل کے ذریعے تعمیر کئے جانے والے لاجسٹک اِنفراسٹرکچر پروجیکٹوں کا جائزہ لیا

حکومت یو ایس بی آر ایل منصوبے کیلئے ریلوے کی جانب سے تعمیر کردہ رَسائی سڑکوں کو لے گی اَپنی تحویل میں

سری نگر// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں نیشنل ہائی ویز لاجسٹکس مینجمنٹ لمیٹڈ (این ایچ ایل ایم ایل) کے ذریعے شروع کئے جانے والے اہم لاجسٹکس منصوبوں جن میں انٹر ماڈل سٹیشنز (آئی ایم ایس)، روپ ویز اور ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارکس (ایم ایم ایل پی) شامل ہیں، کے لیے تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری فائنانس ، کمشنر سیکرٹری سیاحت، مکانات و شہری ترقی محکمہ ، جنگلات، دونوں(جموں اور کشمیر) صوبوں کے صوبائی کمشنران ،، سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی، سیکرٹری رِیونیو،ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر، سی اِی او، این ایچ ایل ایم ایل اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔چیف سیکرٹری نے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ اِن اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر جلداَز جلد عمل درآمد کے لئے ایک واضح لائحہ عمل تیار کریں۔ اُنہوں نے محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈِی) کو ہدایت دی کہ وہ شنکر آچاریہ مندر سمیت جموں و کشمیر کے مختلف سیاحتی مقامات پر روپ وے منصوبوں کے قیام کے لئے ایس پی وِی بنانے کے لئے فوری اَقدامات کریں۔اُنہوں نے محکمہ خزانہ، قانون اور مکانات و شہری ترقیات کو بھی ہدای دی کہ وہ جموں کے سانبہ میں آئی ایم ایس کٹرا اور ملٹی ماڈل لاجسٹک پارک جیسے پروجیکٹوں کی بنیاد کو تیز کرنے کے لئے این ایچ ایل ایم ایل کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کریں۔این ایچ ایل ایم ایل نے پروجیکٹوں کے بارے میں میٹنگ کو بتایا کہ کٹرا میں مجوزہ ماڈل سٹیشن ایک اہم منصوبہ ہے جو ہر برس شری ماتا ویشنودیوی کی پوتر گپھا کی یاترا پر آنے والے تقریباً 2.5 کروڑ یاتریوں کی سہولیات فراہم کرے گا۔ یہ سٹیشن ایک مکمل ٹرانسپورٹ زون پر مشتمل ہوگا جس میں 88 بس بے تقریباً 500 گاڑیوں کی پارکنگ ، تین ہیلی پیڈز اور ایک روپ وے سٹیشن شامل ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک کمرشل زون بھی قائم کیا جائے گا جس میں کمرشل زون متعدد منزلوں کے علاوہ پانچ ہوٹل ٹاورز بھی ہوں گے۔شنکر آچاریہ مندر روپ وے منصوبے کے بارے میں بتایا گیا کہ اِس کی لمبائی 1.05 کلومیٹر ہے اور اس پر لاگت 109 کروڑ روپے آئے گی۔ یہ منصوبہ مونوکیبل ڈی ٹیچ ایبل گنڈولہ(ایم ڈِی جی) ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا جس کی گنجائش 700 اَفراد فی گھنٹہ فی سمت (پی پی ایچ پی ڈِی) ہوگی اور سفر کا دورانیہ تقریباً 5 منٹ ہوگا۔ اِس میں 15 کیبن ہوں گے اور تعمیر کی مدت دو سال مقرر کی گئی ہے۔اِس کے علاوہ این ایچ ایل ایم ایل جموں و کشمیر میں کئی اور روپ وے منصوبوں کے لئے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈِی پی آر) تیار کر رہا ہے جن میں سونہ مرگ ۔ تھجہ واس گلیشیئر، بھدرواہ سے سیو جدھر،باتل سے اَمرناتھ گپھا ، دودھ پتھری میں پریہاس سے ڈسکھل تک اور ناشری ٹنل سے سناسر تک شامل ہیں۔میٹنگ میں سانبہ کے وِجے پور میں ایک ملٹی ماڈ ل لاجسٹکس پارک (ایم ایم ایل پی) کے قیام پر بھی گفتگو ہوئی۔ یہ منصوبہ پی پی پی۔ ڈِی بی ایف او ٹی(ڈیزائن، تعمیر، مالی اعانت، آپریٹ، منتقل) ماڈل پر بنایا جائے گا جس میں ایک ان لینڈ کنٹینر ڈیپو (آئی سی ڈِی)، کنٹینر فریٹ سٹیشن، گودام، کولڈ سٹوریج اور ٹرک ٹرمنلز شامل ہوں گے۔ بعد اَزاں، چیف سیکرٹری نے ایک اور اہم میٹنگ کی صدارت کی جس میں اُودھمپور۔سری نگر۔بارہمولہ ریل لنک (یو ایس بی آر ایل) منصوبے کے لئے ریلوے کی جانب سے تعمیر کردہ رسائی سڑکوں کو جموں و کشمیر کے محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈِی) کے حوالے کرنے کے عمل اور ضوابط کا جائزہ لیا گیا۔یہ اَقدام ضلع ریاسی اور رام بن میں مقامی آبادی کو فائدہ پہنچانے اور بہتر رابطہ یقینی بنانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔یہ 29 رَسائی سڑکیں جن کی مجموعی لمبائی 201.46 کلومیٹر ہے، ریلوے نے یو ایس بی آر ایل منصوبے کے کٹرا۔بانہال سیکشن میں مشینری، لیبراور سامان کی ٹرانسپورٹیشن تعمیر کی تھیں۔ میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ ان سڑکوں کو باقاعدہ دیکھ ریکھ اور مرمت کے لئے پی ڈِبلیو ڈی کے حوالے کیا جائے گا۔ زمین کے حصول کا عمل تقریباً مکمل ہے اور فی الوقت کوئی عدالتی کیس زیر اِلتوأ نہیں ہے۔اِس منتقلی کے لئے ریلویز اور پی ڈبلیو ڈی کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے جائیں گے تاکہ یہ عمل باقاعدہ شکل اختیار کرے۔چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے اِن سڑکوں کو مقامی روابط کے لئے اِنتہائی اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ منتقلی کے عمل کو جلد مکمل کریں تاکہ عوامی فلاح و بہبود یقینی بنائی جا سکے۔