چیف سیکرٹری نے ایم این آر اِی سکیم کے تحت

جموںوکشمیر میں بڑے پیمانے پر سولر پارک کی تجویز کا جائزہ لیا

جموں// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے آج ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی (ایم این آر اِی) کی سولر پارک سکیم کے تحت جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر سولر پارک کے قیام کی ممکنہ صلاحیت کا جائزہ لیا۔اُنہوںنے صوبائی اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ منصوبے کے لئے مناسب اور رُکاوٹوں کے بغیر اراضی کی نشاندہی کے عمل کو تیز کریں۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری فارسٹ، سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، صوبائی کمشنر جموں، صوبائی کمشنر کشمیر ، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے پی ڈِی سی اور دیگر سینئر اِفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے ضلع وار جائزہ لیتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ ایسے وسیع زمین کے رقبوں کی نشاندہی ضروری ہے جو دیگر ترقیاتی کاموں کے لئے مختص نہیں کئے گئے اور جنہیں صاف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے قیام کے لئے فوری طور پر منتقل کیا جا سکے۔اُنہوںنے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اَب تک کی پیش رفت اور اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے درکار طریقہ کار کی تیاری کو سراہا۔ اُنہوں نے زور دیا کہ بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کا اِستعمال جموں وکشمیر کے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور روایتی توانائی ذرائع پر انحصار کم کرنے کے لئے نہایت اہم ہے۔سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے میٹنگ کو ایم این آر اِی سولر پارک سکیم کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور راجستھان، کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں عملائے گئے کامیاب ماڈلوںپر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے بتایا کہ اِس سکیم کے تحت ایم این آر اِی انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ اور گرڈ کنکٹویٹی سمیت منصوبے کی لاگت کا 30 فیصد یا فی میگاواٹ 20 لاکھ روپے تک مرکزی مالی اِمداد (سی ایف اے) فراہم کرتا ہے۔اِس کے علاوہ ہرسولر پارک کے لئے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈِی پی آر) کی تیاری کے لئے 25 لاکھ روپے تک معاونت بھی شامل ہے۔ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے مزید بتایا کہ جموںوکشمیر میں شمسی توانائی کی تخمینہ شدہ صلاحیت تقریباً 20 سے 22 گیگاواٹ ہے جس میں سے 72 میگاواٹ پہلے ہی سرکاری عمارتوں پر سولر روف ٹاپ تنصیبات کے ذریعے حاصل کی جا چکی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اِبتدائی مرحلے میں 250-200 میگاواٹ صلاحیت کے ایک سولر پارک کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے جس کے لئے فی میگاواٹ تقریباً 5 سے 7 ایکڑ زمین اور ضروری برقی و ایویکوایشن انفراسٹرکچر درکار ہوگا۔میٹنگ میں جموںوکشمیر کے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں موجود مواقع، سولر پارک سکیم کے تحت مختلف عمل درآمدی ماڈلز اور صوبائی کمشنروں کی جانب سے اِبتدائی طور پر نشاندہی کی گئی زمین پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اِس کے علاوہ مالیاتی پہلوؤں، لاگت کے تخمینوں اور سولر پارک کے مجموعی طور پر قابلِ عمل ہونے کا جائزہ بھی لیا گیا۔چیف سیکرٹری نے متعلقہ تمام محکموں کو قریبی تال میل قائم رکھ کر زمین کی فزیبلٹی کا جائزہ جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ جموںوکشمیر صاف اور دیرپا توانائی کے حصول کی سمت ایک اہم قدم بڑھا سکے۔