سری نگر / / جموں وکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس پنکج متھل نے ’’ ٹائمز آف کووِڈ ۔19 میں ثالثی ‘‘ کے عنوان سے ایک رسالہ جاری کیا۔رسالہ ثالثی کمیٹی جموں وکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے تالیف کیا ہے۔اِس موقعہ پر چیف جسٹس پنکج متھل جو کمیٹی کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں، نے ثالثی کمیٹی کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ آن لائن ثالثی دُنیا بھر میں وَبائی اَمور کے دوران تربیتی پروگراموں کی فراہمی قابل تقلید ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ آن لائن ثالثی کا مدد لیتے ہوئے روایتی عدالتوں میں طویل قانونی چارہ جوئی کو کم کیا جاسکتا ہے اور آن لائن ثالثی کے طریقۂ کار سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔جسٹس متھل نے مزید کہا کہ یہ ایک تیز اورسستا رضا کارانہ طریقہ ہے کیوں کہ ثالثی استحکام ، نرمی، اتفاق رائے اور قانونی چارہ جوئی کے فریقین کے مابین طویل مدتی تعلقات کو بڑھاوا دیتی ہے۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالا ت کا اِظہار کرتے ہوئے جسٹس تاشی ربستان جوثالثی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں ، نے ثالثی کمیٹی کی کاوشوں کو سراہا اور شراکت داروں سے کہاکہ وہ آن لائن ثالثی کی سہولیت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں۔جسٹس ربستان نے کہا کہ کووِڈ۔19 کے باعث پیدا ہونے والی پابندیوں کے پیش نظر ورچیول طریقۂ کار بہترین متبادل ہے۔اِس موقعہ پر جسٹس علی محمد ماگرے ، جسٹس سنجیو کمار ، جسٹس سنجے دھر اور دیگر متعلقین بھی موجو دتھے۔تقریب میں جموں بینچ کے ججوں نے بذریعے ورچیول موڈ شرکت کی۔










